بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرض پر دی ہوئی رقم کی زکوۃ


سوال

اگر کسی شخص کے پاس اتنی رقم ہو کہ سال گزرنے پر اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہواور وہ سال پورا ہونے سے پہلے اس رقم میں سے کچھ پیسے کسی کو بطور قرض دے دے تو کیا اس صورت میں سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو رقم کسی کو بطورِ قرض دی گئی ہواگر وہ تنہا یا دوسرے موجودہ سرمائے کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے اور اس پر سال بھی گزر جائےتو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب ہو لیکن وہ سال پورا ہونے سے پہلے اس رقم میں سے کچھ حصہ کسی کو قرض دے دےتو زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت قرض پر  دی گئی رقم کو بھی موجودہ رقم میں جمع کرکے مجموعی رقم سے زکوٰۃ ادا کرے گا۔

 

وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى ضعيف ووسط وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي.( الفتاوى الهندية،کتاب الزکوٰۃ،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1،ص:175)


فتویٰ نمبر : 11009/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں