بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مال حرام سے زکوٰۃ ادا کرنا


سوال

اگر ایک شخص کے پاس سارا مال حرام کا ہو اور وہ نصاب کو پہنچتا ہو  تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

جواب

حرام مال کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو تو   اسے واپس کرنا لازم ہے ،اور اگر مالک معلوم نہ ہو توبلا نیت ثواب خیرات کر نا لازم ہے۔ حرام مال چونکہ مالک کو لوٹانا یا صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے اس لیے اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔

 

قوله: (كما لو كان الكل خبيثا) في القنية: لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکوٰہ،باب زکوٰۃالغنم،ج:3،ص:218)


فتویٰ نمبر : 11010/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں