بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں پر سامان بیچنے کی ایک صورت


سوال

اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدنا چاہے، لیکن اس کے پاس پیسے نہ ہوں اور دوسرا شخص اسے کہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہو وہ میں خرید لوں گا، پھر اس چیز کی قیمت پر20فیصد منافع کے ساتھ قسطوں کے ساتھ  آپ پر فروخت کروں گا۔ پھر اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں، کبھی تو پوری رقم قسط وارادا کی جاتی ہے اور کبھی کچھ رقم (مثلا آداھارقم )نقد اداکی جاتی ہے اور باقی رقم قسط وار ادا کی جاتی ہے۔ تو سوال یہ ہےکہ یہ 20 فیصد منافع کا حساب کل قیمت پر لگایا جائے گا، یاوصول شدہ نقد رقم کو منہا کرنے کے بعد باقی رقم پر منافع لگایا جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی مملوکہ چیز دوسرے پر نقد یاادھار بیچنا جائز ہے بشرطیکہ قیمت اور ادائیگی کی مدت معلوم ہو، نیز بیع مرابحہ میں عقد کے وقت جتنےمنافع پر بات طے ہوجائے تو اسی منافع کے ساتھ مشتری قیمت ادا کرےگا۔

 صورتِ مسئولہ میں اگر بائع اور مشتری کے درمیان20 فیصد منافع کی بات کل قیمت کے اعتبار سے ہوئی ہو تو منافع کا حساب کل قیمت پر لگایا جائے گا۔ اور اگر ان کی بات نقد رقم منہا کرکے باقی رقم پر منافع لگانے کی بات ہوئی ہو تو نقدرقم کو منہا کرکے باقی رقم پر 20 فیصد منافع کا حساب لگایا جائے گا۔

 

 المرابحة: نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح. (الهداية، كتاب البيوع، ‌‌‌باب ‌المرابحة والتولية، ج 3، ص:56)

يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل و التقسيط؛لأن جهالته تفضي إلى النزاع. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، رقم المادة:236، كتاب البيوع، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل، ج:2، ص:167)


فتویٰ نمبر : 4114/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں