بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
سرکاری ملازم کا بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ لینا
سوال
ایک شخص سرکاری سیکیورٹی فورس(ملیشہ)میں ملازم تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ ملازمت چھوڑ کر یا بغیر اجازت وہاں سے واپس اپنے گھر آگیا اور مزید ڈیوٹی انجام نہیں دیتا تھا، لیکن اس کے باوجود متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کی تنخواہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں مسلسل آتی رہی۔ اس نے تقریباً چار سال تک وہ تنخواہ وصول کی اور اپنے ذاتی و گھریلو اخراجات میں استعمال کرتا رہا، پھر بعد میں حکومت نے اس کی تنخواہ بند کردی۔ کیا اس شخص کے لیے ملازمت چھوڑنے اور ڈیوٹی انجام نہ دینے کے باوجود چار سال تک موصول ہونے والی تنخواہ وصول کرنا اور استعمال کرنا جائز تھایا نہیں؟ اس کا ازالہ کس طرح کیا جائے؟
جواب
واضح رہے کہ سرکاری ملازم اجیرِ خاص کے حکم میں ہوتا ہے، اور اجیرِ خاص وہ ہوتا ہے جو اپنے وقت کے بدلے اجرت کا مستحق ہوتا ہے، یعنی اگر وقت دے گا تو اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوگا، ورنہ نہیں۔ نیز اگر کوئی کسی شخص یا ادارے کا مال حرام طریقے سے کھائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مال متعلقہ شخص یا ادارے کو واپس کرے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص نے جتنی مدت ڈیوٹی دیے بغیر تنخواہ کی حاصل کی ہے وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ اس پر لازم ہے کہ وہ تمام رقم متعلقہ ادارے کو واپس کرے۔
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة. (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الإجارة،ج:9،ص:94،مكتبة:دار الكتب العلمية بيروت)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم. (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب البيوع،ج:7،ص:301،مكتبة:دار الكتب العلمية بيروت)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں