بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقت مقررہ سے پہلے عقد مضاربت ختم کرنا


سوال

احمد ایک بلڈر ہے جو بلڈنگیں تعمیر کرتا ہے۔ کریم نے احمد کو ایک کروڑ دس لاکھ روپے بطورِ مضاربہ دیئے اور شرعی تقاضے کے مطابق (نفع و نقصان میں شریک ہونے کی بنیاد پر) معاہدہ طے ہوا۔ اس معاہدے کی مدت میں ابھی آٹھ ماہ باقی ہیں۔ اسی دوران کریم نے احمد کو ایک اور معاہدے کے تحت مزید ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے دیئے اور آپس میں معاملات طے پا گئے۔ اس دوسرے معاہدے کو ابھی تقریباً ایک سال ہو چکا ہے۔ اب کریم کی خواہش ہے کہ احمد کے ساتھ ہونے والے اپنے دونوں معاہدات منسوخ کرے اور تینوں رقوم (پہلے معاہدے کی رقم، اسکا منافع اور دوسرے معاہدے کی رقم) ملا کر ایک اور معاہدہ کیا جائے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح دونوں معاہدات کو منسوخ کرنے کا حق کریم کو حاصل ہے یا نہیں؟ جبکہ احمد دونوں معاہدات کی تنسیخ پر راضی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کرنا شرعاً درست نہیں۔ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ رب المال اور مضارب میں سے ہر ایک کو عقد مضاربت فسخ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ بشرط یہ کہ رأس المال عقد فسخ کرتے وقت نقدی کی صورت میں ہو، اگر عقد فسخ کرتے وقت رأس المال نقدی کی صورت میں موجود نہ ہو، بلکہ سامان کی صورت میں ہو تو پھر رأس المال نقدی ہونے تک مضارب کو اثاثہ فروخت کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ نفع متعین ہوجائے جس پر عقد ہوا تھا۔ اور دونوں میں سے جو بھی عقد مضاربت کو ختم کرنا چاہے، وہ دوسرے کو اس کی اطلاع دے، تاکہ اسے فسخ کا علم ہو۔ 

لہذا صورت مسئولہ میں کریم نے احمد کو بطور مضاربت جو پیسے دیئے ہیں اور عقد مضاربت کیا ہے، پھر کریم ان دونوں معاہدات کو فسخ کرنا چاہتا ہے تو اگر راس المال نقدی کی صورت میں موجود نہ ہو، بلکہ سامان کی صورت میں ہو تو پھر رأس المال نقدی ہونے تک مضارب کو اثاثہ فروخت کرنے کا موقع دیا جائے گا جب رأس المال نقد ہو جائے تو تب عقد فسخ کیا جائے گا اور پھر فسخ  کرنے کے بعد نیا عقد شرعی اصولوں کے مطابق طے کرنے کا دونوں کو اختیار ہے۔

 

وأما صفة هذا العقد فهو أنه عقد غير لازم، ولكل واحد منهما أعني رب المال والمضارب الفسخ، لكن عند وجود شرطه، وهو علم صاحبه لما ذكرنا في كتاب الشركة، ويشترط أيضا أن يكون رأس المال عينا وقت الفسخ دراهم أو دنانير.(بدائع الصنائع، كتاب المضاربة، فصل في صفة عقد الضاربة، ج:6، ص:109)

المضاربة: مشتقة من الضرب في الأرض، سمي به، لأن المضارب يستحق الربح بسعيه وعمله، وهي مشروعة للحاجة إليها قال: المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين، ومراده الشركة في الربح، وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين، والعمل من الجانب الآخر، ولا مضاربة بدونها، ألا ترى أن الربح لو شرط كله لرب المال كان بضاعة، ولو شرط جميعه للمضارب كان قرضا. (الهداية، كتاب المضاربة، ج:3، ص:200)


فتویٰ نمبر : 4113/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں