بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیسٹ ٹیوب بےبی کے ذریعے علاج کرنا


سوال

اولاد کے حصول کے لیےIVF یاIUI کے ذریعے علاج کرنےکا شرعی لحاظ سے کیاحکم ہے؟

جواب

IVFIn Vitro Fertilization)) سےعام زبان میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کہا جاتا ہے۔ اس میں آدمی کا نطفہ اورعورت کا بیضہ، بیضہ دانی سے لے کر باہر بارآور کیا جاتا ہے اور پھر اس کو عورت کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ اسی طرح (Intrauterine Insemination)IUIسے مراد عورت کے رحم میں نطفہ پہنچنے کا مصنوعی طریقہ ہے۔ اس میں آدمی کا نطفہ لےکر عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے شرعی لحاظ سے درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے: 

1۔بااعتماد ڈاکٹر کے مطابق بیماری ایسی ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب کے بغیر علاج ممکن نہ ہو۔

2۔ڈاکٹر میں احساس ذمہ داری ہو کہ وہ میاں بیوی کے علاوہ کسی اور کا نطفہ یا بیضہ استعمال نہ کرے اور ناجائز صورتوں کی طرف قدم نہ اٹھائے۔

IVFکے نتیجے میں بننے والا جنین (Embryo)صرف اسی بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے جس کا بیضہ لیا گیا ہو کسی دوسری عورت کے رحم میں منتقل نہ کیا جائے۔

4۔علاج کے دوران صرف بقدرِ ضرورت ہی ستر کھولا جائےاور ممکن ہو تو خاتون ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے۔

 

(قوله: ولأن الحاجة إلى الولد أصلية) كحاجته إلى الأكل.( فتح القدير، كتاب العتاق، ج:5، ص:42)

التلقيح الصناعي:هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوى الإنساني، ومضارعاً للتلقيح في دائرة النبات والحيوان.( الفقه الإسلامي وأدلته، البحث الرابع الوطء والنظرالخ، ج:4، ص:2649)

فتاوی مجلس فقہی، فقہ الطب والعلاج، ج:1، ص:507


فتویٰ نمبر : 6720/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں