بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
طلاق كے بعد بچوں كی پرورش كا حقدار
سوال
تین نابالغ بچے ہیں، جن میں بڑے کی عمر 8 سال، دوسرے کی 6 سال اور 7 ماہ، اور تیسرے کی عمر تقریباً 2 سال ہے۔ والدین کے مابین طلاق ہو چکی ہے اور بچوں کا والد منشیات کا عادی ہونے کے باعث فی الحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ چونکہ بچے ماضی میں بھی اپنی دادی کی زیرِ نگرانی رہ چکے ہیں اور ان کے ساتھ خوش ہیں، لہذا کیا دادا دادی کو قانونی طور پر بچوں کی تحویل اور پرورش کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد لڑکا جب تک سات سال اور لڑکی نو سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے تب تک ان کی پرورش کا حق ماں کو ہو گا،بشرطیکہ کہ وہ کسی ایسے فسق و فجور میں مبتلا نہ ہو جس سے بچوں کی تربیت متاثر ہونے کا خدشہ ہو یا وہ بچوں کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔اور جب لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہو جائے تو ان کی پرورش و تربیت کی ذمہ داری کا حق باپ کو ہو گا، ۔ نیز اگر بچوں کی ماں کسی وجہ سے پرورش کرنے کی اہل نہ رہی یا پرورش کرنے سے انکار کرلے، تو اس کے بعد اس کی ماں یعنی بچوں کی نانی کو پرورش کا حق ہے اگر وہ نہ ہو تو پھردادی کو پرورش کا حق حاصل ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق جس بچے کا عمراٹھ (8) سال ہے تو باپ اس کی پر ورش کا حق رکھتا ہے۔ لیکن باپ اگر واقعتاً نشے کا عادی ہے تو ماں کی پرورش میں ہوگا اور باقی دو بچے جن کی عمر سات (7) سال سے کم ہے وہ بھی سات سال تک ماں کی پرورش میں ہوں گے۔ البتہ اگر بچوں کی ماں اس کی پرورش کرنے سے انکار کرے یا وہ پرورش کا اہل نہ رہی تو وہ پھر نانی کو حوالہ کیا جائے گا اگر وہ نہ ہو تو پھر دادی کو پرورش کا حق حاصل ہے۔
وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وحجري له حواء، وثديي له سقاء، وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي "، ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون. " والنفقة على الأب " على ما نذكر " ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:3، ص:310)
وإذا أسقطت الام حقها صارت كميته أو متزوجة فتنتقل للجدة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، ص: 255)
وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير. ( الفتاوى الهندية1/ 541)
باب الحضانة بفتح الحاء وكسرها: تربية الولد.(تثبت للام) النسبية (ولو) كتابية أو مجوسية أو (بعد الفرقة إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لانها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به، كزنا وغناء وسرقة ونياحة، كما في البحر والنهر بحثا. قال المصنف: والذي يظهر العمل بإطلاقهم كما هو مذهب الشافعي أن الفاسقة بترك الصلاة لا حضانة لها...(أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا. وقال ابن عابدين تحته : قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي، وكذا في الحاضن الذكر سوى الشرط الأخير…والمراد بكونها أمينة أن لا يضيع الولد عندها باشتغالها عنه بالخروج من منزلها كل وقت)… قوله: النسبية) احترز به عن الأم الرضاعية فلا تثبت لها. اهـ. ح. وكذا الأخت رضاعا ونحوها. )رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار،ج:5، ص:253)
قلت: الأصوب التفصيل، وهو أن الحاضنة إذا كانت تأكل وحدها وابنها معها فلها حق لأن الأجنبي لا سبيل له عليها ولا على ولدها بخلاف ما إذا كانت في عيال ذلك الأجنبي، أو كانت زوجة له، وأنت علمت أن سقوط الحضانة بذلك لدفع الضرر عن الصغير، فينبغي للمفتي أن يكون ذا بصيرة ليراعي الأصلح للولد، فإنه قد يكون له قريب مبغض له يتمنى موته ويكون زوج أمه مشفقا عليه يعز عليه فراقه فيريد قريبه أخذه منها ليؤذيه ويؤذيها، أو ليأكل من نفقته أو نحو ذلك، وقد يكون له زوجة تؤذيه أضعاف ما يؤذيه زوج أمه الأجنبي وقد يكون له أولاد يخشى على البنت منهم الفتنة لسكناها معهم، فإذا علم المفتي، أو القاضي شيئا من ذلك لا يحل له نزعه من أمه لأن مدار أمر الحضانة على نفع الولد …وقدمنا في العدة عن الفتح عند قوله إن المختلعة لا تخرج من بيتها في الأصح أن الحق أن على المفتي أن ينظر في خصوص الوقائع . ( رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، :5، ص:266)
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا. وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. ( رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، ج:5، ص:267)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں