بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غير وقف شده دوكانوں كے اوپر بنائی گئی مسجد کی شرعی حیثیت


سوال

ہمارے محلہ میں تقریباً 32 سال قبل دوکانوں کے اوپر ایک مسجد/مصلیٰ قائم کیا گیا تھا۔ ،اوپر والی منزل کو نماز اور مسجد کے لیے مخصوص کرکے وقف کیا گیا تھا۔  جبکہ نیچے کا حصہ ابھی تک وقف نہیں اسی وقف شدہ حصے میں باقاعدہ مسجد قائم کی گئی، جہاں گزشتہ بتیس سال سے پنج وقتہ نماز، جمعہ اور دیگر عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔مسجد کی تعمیر، چھت، بجلی، میٹر اور دیگر تمام ضروری اخراجات چندہ اور وقف کے مال سے پورے کیے گئے۔ مسجد کا ایک مستقل نام بھی رکھا گیا اور وہ محلہ کی معروف اور آباد مسجد ہے۔ مزید یہ کہ مسجد کی دوسری اور تیسری منزل بھی موجود ہے اور مجموعی طور پر عمارت مسجدہی کے  استعمال میں آ رہی ہے۔ مذکورہ بالا صورت میں اوپر وقف شدہ منزل میں قائم اس مسجد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اسے مسجدِ شرعی شمار کیا جائے گا یا صرف مصلیٰ؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد  شرعی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اوپر اور نیچے کا حصہ دونوں مسجد یا اس کے مصالح کے لیے وقف ہو،چنانچہ اگر کسی مسجد کے نیچے تہہ خانہ یا دوکانیں ہو، یا اس کے اوپر دوکانیں وغیرہ ہوں اور وہ وقف نہ ہوں تو  وہ مسجد شرعی نہیں کہلائے گی، اگر چہ اس میں  لمبے عرصہ سے نمازیں پڑھی جاتی ہوں، البتہ اگر کمرے اور دوکانیں مسجد کے مصالح کے لیے وقف ہوں، تو اس صورت میں وہ مسجد شرعی شمار ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ دوکانیں مسجد کے مصالح  کے لیے وقف نہیں ،تو اس کے اوپر بنائی گئی مسجد ،مسجدِشرعی شمار نہ ہوگی۔

 

ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه، ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، کتاب الوقف، ج:2، ص:408)

 (وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا... قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى :وأن المساجد لله بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية. ( رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:547)


فتویٰ نمبر : 6708/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں