بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کو اپنی زمین عاریت پر دینا


سوال

اگر کوئی شخص اپنے بھتیجے کو اپنی زمین حوالہ کردے کہ اس میں کاشتکاری کرو تاکہ میری زمین محفوظ رہے اور مجھے اس زمین کی پیداوار میں سے کچھ بھی نہ دو اور نہ پیسے وغیرہ دو بلکہ اپنی زمین کی طرح اس کو بھی اپنے استعمال میں لاؤ، نیز اس زمین کے اردگرد دیوار کی مرمت پر جو خرچہ آتا ہے اسے مالک زمین اپنی طرف سے پورا کرتا ہے۔ تو چچا کا اپنے بھتیجے کے ساتھ اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بلا عوض كسی کو کسی چیز کی منفعت کا مالک بنانا "عاریت" کہلاتا ہے جو شریعت میں ایک جائز معاملہ ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی شخص نے اپنی زمین اپنے بھتیجے کے سپرد کر دی ہو کہ وہ اس میں کاشتکاری کرے، اور سب  پیداوار اپنے لیے استعمال کرے، مالک زمین کو کچھ نہ دے تو یہ عاریت کی ایک صورت ہے جو شرعاً جائز ہے۔ نیز چونکہ زمین مالک کی ملکیت ہے اس لیے وہ اپنی زمین کی مرمت خود ہی کرے گا ۔

 

(هي تمليك المنافع بغير عوض) وحكمها كونها أمانة.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق كتاب العارية، ج:7، ص:280)

(هي) لغة - مشددة وتخفف -: إعارةالشيء قاموس. وشرعا (تمليك المنافع مجانا)أفاد بالتمليك لزوم الإيجاب والقبول ولو فعلا وحكمها كونها أمانة (يرجع المعير متى شاء) الدر المختار ، كتاب العارية، ج:5، ص:676)

ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا.(تبيين الحقائق، باب مسائل شتي، ج:4، ص:194)


فتویٰ نمبر : 4107/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں