بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تجھے رہنا ہے کہ نہیں، سے وقوع طلاق


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سےکہاکہ"تجھے رہنا ہے کہ نہیں "اور بیوی نے کہا: "مجھے نہیں رہنا " تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقوعِ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ شوہر کی طرف سے طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ استعمال کیے گئے ہوں۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ "تجھے رہنا ہے کہ نہیں؟" اور بیوی کہے کہ "نہیں رہنا "تو شوہر کے اس جملے میں طلاق کا کوئی لفظ نہ صریح اور نہ کنا ئی موجود ہے، بلکہ یہ صرف مستقبل کے ارادے کے بارے میں ایک سوال ہے،اس لیے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الطلاق،اقسام الطلاق،ج:3،ص:230)


فتویٰ نمبر : 7461/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں