بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبضہ سے پہلے مبیع کو فروخت کرنا


سوال

ہمارا پشاورنمک منڈی میں میڈیسن کا کاروبار ہے ،ہم ملتان سے میڈیسن لا کر دوسرے دکانداروں پر فروخت کرتے ہیں ، لیکن کبھی جب میڈیسن ختم ہوجاتے ہیں، تو ہم میڈیسن کے لیے آرڈر دے کر میڈیسن خریدتے ہیں اور میڈیسن پہنچنے سے پہلے یعنی قبضہ میں آنے سے پہلےہم دوسرے دکانداروں پر میڈیسن فروخت کرنے کا عقد کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ میڈیسن قبضہ میں آنے سے پہلے دوسرے دکانداروں پر فروخت کرنے کا عقد شرعا ََجائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کی جائز صورت کیا بنے گی؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی چیز خریدنے کے بعد جب تک  قبضہ میں نہ آیا ہواسے آگے فروخت کرنا جائز نہیں البتہ اس صورت میں وعدہ بیع  کیا جاسکتا ہےکہ "میں آپ کو فلاں چیز فروخت کروں گا"پھر قبضہ حاصل ہونے کے بعد اسےفروخت کیا جاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق میڈیسن خرید نے کے بعد قبضہ میں آنے سے پہلےاس کا آگے فروخت کرنا شرعاََ جائز نہیں ۔ البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ قبضہ میں آنے سے پہلے دوسرے دکانداروں کے ساتھ اس کے  فروخت کرنے کا وعدہ کیا جائے ۔ اور قبضہ میں آنے کےبعد ان کے ساتھ باقاعدہ ان کو فروخت  کرلیا جائے۔   

 

عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك ۔ ( سنن أبي داود ،كتاب البيوع،باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ،ج:5، ص:362 )

 ومن اشترى شيئا فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحدا ولا يشرك فيه۔ (المبسوط للسرخسي،كتاب البيوع،باب البيوع الفاسدة،ج:13،ص:8)


فتویٰ نمبر : 4118/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں