بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ادارہ کے ذمہ دار کا بے جا تصرف کرنا
سوال
میں ایک نجی لائبریری میں مستقل ملازم ہوں اور میری بنیادی ذمہ داری کتابوں کی کلاسیفیکیشن ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہماری لائبریری اور ایک دوسرے ادارے کے درمیان کتابوں اور مخطوطات کی ڈیجیٹل اسکیننگ کا ایک معاہدہ ہوا۔ اس مقصد کے لیے لائبریری انتظامیہ نے مجھے اور ایک دوسرے ملازم کو اس کام کی باقاعدہ تربیت دلوائی۔ جب یہ پروجیکٹ شروع کرنے کی تجویز دی گئی تو ہم نے انتظامیہ سے عرض کیا کہ چونکہ یہ ایک نیا، اضافی اور تکنیکی نوعیت کا کام ہے، لہٰذا اس کے لیے مناسب معاوضہ مقرر کیا جائے، خواہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہو یا دوسرے ادارے کی طرف سے دی جانے والی رقم کی صورت میں۔ اس پر ہمارے شعبے کے سربراہ نے واضح طور پر یہ کہا کہ ادارہ اپنی طرف سے کوئی اضافی ادائیگی نہیں کر سکتا، البتہ دوسرے ادارے سے اس پروجیکٹ کے لیے جو رقم موصول ہوگی وہ مکمل طور پر تم دونوں ملازمین کو دے دی جائے گی۔ ہم نے اسی یقین دہانی اور وعدے کی بنیاد پر یہ کام قبول کیا، تربیت حاصل کی اور پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا۔ بعد ازاں ہماری روزانہ کی 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کو اس طرح تقسیم کیا گیا کہ 4 گھنٹے ہم اپنا اصل کام کرتے اور 4 گھنٹے اسکیننگ کے اس اضافی اور تکنیکی کام پر صرف کرتے۔ یہ تمام کام مقررہ اوقاتِ کار کے اندر انجام دیا جاتا رہا۔ اب اس پروجیکٹ کی رقم ادارے کو موصول ہو چکی ہے۔ شعبے کے سربراہ نے وعدے کے مطابق اس رقم کی ادائیگی کے لیے فائل اعلیٰ انتظامیہ کو بھیجی، لیکن انتظامیہ نے اس کی منظوری سے انکار کر دیا ہے۔ درج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے: 1۔ کیا ہم اس پروجیکٹ کی رقم کے شرعاً حقدار ہیں، جبکہ ہم نے یہ کام مذکورہ وعدے اور یقین دہانی کی بنیاد پر قبول کیا تھا؟ 2۔ کیا ادارے کے ذمہ دار کی جانب سے کیا گیا یہ وعدہ شرعاً قابلِ اعتبار ہے؟ 3۔ اگر وعدے کے مطابق رقم ادا نہ کی جائے تو کیا یہ وعدہ خلافی یا حق تلفی شمار ہوگی؟ 4۔ اس صورت میں شرعی طور پر ہمارا حق اور ذمہ داری کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی طرف سے ایسا مالی وعدہ، معاہدہ یا تصرف کرے جس کا اسے اختیار حاصل نہ ہو، کیونکہ تصرف اسی حد تک نافذ ہوتا ہے جس حد تک اسے اس کا اختیار حاصل ہو۔
صورتِ مسئولہ میں سوال سی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے شعبہ کے سربراہ کو اس بات کا اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ ملازمین کے لیے کسی دوسرے ادارے سے موصول ہونے والی رقم انہیں دینے کا فیصلہ کرے، بلکہ اس معاملے میں حتمی اختیار اعلیٰ انتظامیہ کے پاس تھا، اگر صورتحال ایسی ہی ہو تو ایسی صورت میں شعبہ کے سربراہ کا مذکورہ وعدہ شرعاً قابل اعتبار نہ ہوگا ، اور صرف اس وعدے کی بنیاد پر ادارہ ملازم کو مذکورہ رقم حوالہ کرنے کا ذمہ دار نہ ہوگا، نیز ایسی صورت میں رقم کی ادائیگی نہ کرنا ادارہ کی جانب سے حق تلفی شمار نہ ہوگی۔
ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب النكاح، ج:2، ص:234)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."( مجلة الأحكام العدلية، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ:96،97 ص:27)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں