بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

دوکاندارکا ادھارکی وجہ سے قیمت میں اضافہ کرنا


سوال

ایک گاہک دکاندار سے پورے مہینے کا سودااس وعدے پر ادھار لیتا ہےکہ وہ مہینےکےآخرمیں تمام بل ادا کرے گا۔ اس حوالےسےدکاندارنےدو بنیادی باتیں پوچھنی ہیں: 1۔کیا دکاندار کےلیےیہ جائز ہےکہ وہ ادھارسودا دینےکی وجہ سے 10روپے والی نقد چیز گاہک کو 11روپےمیں دے؟2۔ اگر گاہک مہینے کےآخرمیں مکمل ادائیگی نہ کرے،مثلاً :ایک لاکھ میں سے صرف 40ہزار دے کر بقیہ 60ہزار اگلے مہینے پرچھوڑ دے، تو دکاندارکی رقم پھنس جانےکی وجہ سے، کیا اس کے لیےاب یہ جائزہےکہ وہ اس گاہک کونیا ادھار سودا دیتے وقت 10روپے کی چیز 12 روپے میں دے؟

جواب

واضح رہے کہ بیع وشراء کی درستگی کے لیےعقد کے وقت قیمت متعین کرنا ضروری ہے۔بائع اورمشتری کی باہمی رضامندی سےنقدخریدنےکی صورت میں کم قیمت اورادھار کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا شرعاً درست ہے۔بشرطیکہ عقد کےوقت ادھاریا نقد میں سےکوئی ایک صورت متعین کردی جائے۔نیز ادھارفروخت کرنے میں عقد کی درستگی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ متعین ہوجائے۔اور یہ بھی لازم ہےکہ ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

صورتِ مسئولہ میں گاہک اور دوکاندار کےلیے ضروری ہے کہ اول ادھاریا نقد میں سےکسی ایک کی تعیین کرلیں اور قیمت بھی متعین کردیں اور ادھارکی صورت میں ادائیگی کی تاریخ بھی مقررکرلیں اگران شرائط میں سےکسی ایک شرط کی بھی رعایت نہ رکھی گئی،توعقد فاسدہو جائے گا۔نیزدوكانداركےليے ضروری ہے کہ تاخيركی صورت ميں متعين قیمت ہی وصول كرے ،البتہ اگردوکاندار  گاہک کےساتھ اضافی قیمت طےکرلے، جس پر گاہک بھی رضامند ہوتو پھراس کی گنجائش ہوگی ۔

 

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه: لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كانا يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (المبسوط للسرخسي،کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدۃ، ج:13، ص:8)

وكذا إذا قال بعتك هذا العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين لأن الثمن مجهول۔۔۔۔۔فإذا علم ورضي به جاز البيع لأن المانع من الجواز وهو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد. (بدائع الصنائع ، كتاب البيوع، فصل في شروط الصحۃ، ج:6،ص:596) 


فتویٰ نمبر : 4103/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں