بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین طلاقوں کو معلق کرنا


سوال

منگنی کے وقت زید اور عمر نے یہ فیصلہ کیا کہ زید کی بیٹی فاطمہ کی منگنی عمر کے بیٹے بکر سے ہوگی اور عمر کی بیٹی نازیہ کی منگنی زید کے بیٹے خالد سے ہوگی۔ نیز یہ شرط طے ہوئی کہ جس کی بیٹی پہلے بالغ ہوگی، پہلے اسی کی شادی ہوگی۔ پھر اس طرح ہوا کہ زید کی بیٹی فاطمہ بالغ ہوئی، لیکن اس کے بالغ ہونے کے بعد چار سال گزر گئے، تاہم مجبوری وغیرہ کی وجہ سے اس کی شادی نہ ہوسکی، حتیٰ کہ عمر کی بیٹی نازیہ بھی بالغ ہوگئی۔ پھر زید اور عمر کے درمیان کچھ ناراضی پیدا ہوگئی۔ اسی دوران عمر نے زید سے کہا: "پہلے آپ کی بیٹی فاطمہ کی شادی میرے بیٹے بکر سے ہوگی، پھر ایک سال بعد میری بیٹی نازیہ کی شادی آپ کے بیٹے خالد سے ہوگی، کیونکہ آپ کی بیٹی پہلے بالغ ہوئی" لیکن زید نے انکار کرتے ہوئے کہا: نہیں، آپ کی بیٹی بھی بالغ ہے اور میری بیٹی بھی بالغ ہے، لہٰذا دونوں کی شادیاں ایک ساتھ ہوں گی۔" اس پر دونوں کے درمیان ضد پیدا ہوگئی، حتیٰ کہ دونوں نے اپنی اپنی بات پر تین طلاق کی قسم کھالی۔ عمر نے کہا: "مجھ پر تین طلاق ہے کہ پہلے آپ کی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے ہوگی، اس کے بعد میری بیٹی کی شادی آپ کے بیٹے سے ہوگی۔" زید نے بھی کہا: "نہیں، مجھ پر تین طلاق ہے کہ میری اور آپ کی بیٹی کی شادیاں ایک ساتھ ہوں گی۔" اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں کیا حکم ہے، جبکہ دونوں نے تین طلاق کی قسم کھائی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر كوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو مستقبل کے کسی کام پر معلق کرے تو اس کام کے ہونے پر اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ  عمر نے کہا ہے کہ "مجھ پر تین طلاق ہے کہ پہلے آپ کی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے ہوگی اس کے بعد میں میری بیٹی کی شادی آپ کے بیٹے سے ہوگی" تواب اگر دونوں کی شادی ایک ساتھ ہوجائے یا پہلے عمر کی بیٹی کی شادی ہوجائے تو شرط پوری ہونے کی وجہ سے عمر کی بیوی تین طلاقوں کے ساتھ مطلقہ ہوگی۔

اسی طرح زید نے بھی کہا ہے کہ "مجھ پر تین طلاق ہے کہ میری اور آپ کی بیٹی کی شادیاں ایک ساتھ ہوں گی" تو اب اگر ایک ساتھ شادی نہ ہوئی بلکہ کسی ایک کی پہلے ہوگئی تو زید کی بیوی تین طلاقوں کے ساتھ مطلقہ ہوگی۔

طلاق سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ  عمر اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے اور پھر عدت گزرنے تک انتظار کرے پھر جب عدت ختم ہو جائے تو دونوں شادیاں ایک ساتھ کروائی جائیں اس صورت میں چونکہ عمر کے نکاح میں بیوی نہ ہوگی اس لیے اس کی شرط ختم ہو جائے گی اورتین طلاقیں واقع نہ ہوں گی۔ اس کے بعد تجدید نکاح کر لے۔

 

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها. (الدر المختار شرح تنویر الأبصار،كتاب الطلاق، ص: 221)

وإذا أضافه إلى شرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق. (الهداية، باب الأيمان في الطلاق، ج:1، ص:244)


فتویٰ نمبر : 7472/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں