بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ضرورت سے زائد زمین نصاب کے بقدر ہو تو قربانی کا حکم


سوال

ایک آدمی کے پاس گھر کے علاوہ غیر آباد زمین ہے جس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے اور وہ کاشت کے قابل نہیں ہے پہاڑی زمین ہے۔ اور اس کے علاوہ اس آدمی کے پاس اتنا سونا، چاندی یا نقدی نہیں ہے جو نصاب کو پہنچتی ہو تو کیا اس شخص پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ نیز یہ شخص زکوۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ، مقیم ہو اور اس کے ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باؤن تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا حاجات اصلیہ سے زائدسامان ہو تو اس شخص پر قربانی واجب ہوگی۔ نیز جس شخص کی ملکیت میں غیر آباد زمین ہو اور اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو تو اس شخص کو زکوۃ لینا جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص کے پاس ضرورت سے زائد نصاب کی بقدر غیر آباد زمین ہے اس پر قربانی واجب ہے، اور زکوۃ لینا جائز نہیں ہے۔

 

وشرائطها: (الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)...إلخ

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية). (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:452، مكتبة: دار الكتب العلمية بيروت)

ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: من وجد سعة فليضح شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال. ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج، فلا بد من اعتبار الغنى، وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا، أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر. (بدائع الصنائع،كتاب التضحية،ج:6،ص:283،مكتبة: دار الكتب العلمية بيروت)

(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،ج:3،ص:296، مكتبة: دار الكتب العلمية بيروت)


فتویٰ نمبر : 11005/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں