بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح سے پہلے طلاق دینا


سوال

زید اور انوش دونوں ایک حرام ریلیشن میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے نکاح سے پہلے ریلیشن رکھا ہوا ہے۔ جھگڑے کے دوران زید نے انوش سے کہا کہ اگر شادی کے بعد تم نے میری اجازت کے بغیر کسی سے بات کی تو میں طلاق دوں گا،تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟       

جواب

واضح رہے کہ طلاق ماضی یاحال پردلالت کرنےوالےالفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہویامستقبل میں طلاق دینے کےعزم کا اظہارہوان سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔نیز طلاق کے لیے ملکِ نکاح ضروری ہے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے کسی عورت کو طلاق دےتو طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں انوش اگر واقعتاً زید کے نکاح میں نہیں اور اس نے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی دی ہےتو اس سےطلاق واقع نہ ہوگی۔

 

عن عمروبن شعيب،عن أبيه،عن جده،أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لاطلاق إلا فيما تملك،ولاعتق إلافيما تملك،ولابيع إلافيما تملك. (سنن أبي داؤد، كتاب الطلاق،باب في الطلاق قبل النكاح،رقم الحديث:2190)

فإن قال لأجنبية:إن دخلت الدارفأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدارلم تطلق كذا في الكافي. (الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق، ج:1، ص:488)

صيغة ‌المضارع ‌لا ‌يقع ‌بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال.(تنقیح الحامدية،کتاب الطلاق،ج:1،ص:37)


فتویٰ نمبر : 7450/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں