بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسلسل قطرات نکلنے والے مریض کی نماز اور کپڑوں کا حکم


سوال

ایک شخص کو مسلسل پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات اس کے بدن یا کپڑوں پر قطرے ٹپک جاتے ہیں، لیکن نجاست لگنے کی صحیح جگہ معلوم نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں کیا اس شخص پر پوری شلوار اور پاؤں دھونا لازم ہوگا؟ یا ظنِّ غالب کے مطابق جس جگہ نجاست ہونے کا گمان ہو، صرف اسی حصے کو دھو لینا کافی ہوگا؟ نیز کیا ایسا شخص شرعاً معذور شمار ہوگا، جس کے لیے کسی مخصوص جگہ کو دھوئے بغیر نماز ادا کرنا جائز ہوگا؟

جواب

نماز کی صحت کے لیے بدن، کپڑوں اور نماز کی جگہ کا نجاست سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اس لیے جب تک ممکن ہو، بدن اور کپڑوں کو پاک رکھنا لازم ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آنے کی بیماری ہو اور قطرے ٹپک کر بدن یا کپڑوں کو لگ جائیں، لیکن نجاست لگنے کی متعین جگہ معلوم نہ ہو، تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جس حصے پر نجاست لگنے کا احتمال ہو، اس پورے حصے کو دھو لیا جائے۔البتہ اگر یہ عذر بار بار پیش آتا ہو اور ہر مرتبہ پورے مشتبہ حصے کو دھونا باعثِ مشقت و حرج ہو، تو ظنِّ غالب کے مطابق جس جگہ نجاست لگنے کا زیادہ گمان ہو، صرف اسی حصے کو دھو لینا کافی ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر یہ بیماری اس حد تک پہنچ جائے کہ ایک مکمل نماز کے وقت میں بدن یا کپڑوں کو پاک رکھنا ممکن نہ رہے، یعنی کپڑے دھونے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی نماز کے دوران دوبارہ نجاست لگ جانے کا غالب اندیشہ ہو، تو ایسا شخص شرعاً معذور کے حکم میں ہوگا۔ اس صورت میں دورانِ نماز پیش آنے والی اس نجاست کی وجہ سے اس کی نماز متاثر نہیں ہوگی۔

 

(وغسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلا منه ونسي) المحل (مطهر له وإن) وقع الغسل (بغير تحر) وهو المختار. (قوله: هو المختار) كذا في الخلاصة والفيض وجزم به في النقاية والوقاية والدرر والملتقى، ومقابله القول بالتحري والقول بغسل الكل، وعليه مشى في الظهيرية ومنية المفتي واختاره في البدائع احتياطا.(ردالمحتار مع الدرالمختار ، كتاب الطهارة ، باب الأنجاس ، ج:1، ص:543)

مريض مجروح تحته ثياب نجسة، إن كان بحال لا يبسط تحته شيء إلا تنجس من ساعته له أن يصلي على حاله، وكذا لو لم يتنجس الثاني إلا أنه يزداد مرضه له أن يصلي فيه ۔۔والظاهر أن المراد بقوله " من ساعته " أن يتنجس نجاسة مانعة قبل الفراغ من الصلاة.(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطهارة ، باب الحيض ، مطلب في أحكام المعذور ، ج:1، ص: 507)


فتویٰ نمبر : 11002/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں