بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
موجودہ دورمیں دیت کی مقدار
سوال
اگرایک شخص کسی دوسرےکوقصداًقتل کرےاورپھردونوں فریق دیت پرصلح کرنےپراتفاق کریں۔توموجودہ دورمیں دیت کی مقدارکیا ہوگی؟وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہےکہ قتلِ عمد کی صورت میں قصاص لازم ہوتاہے۔ مال یادیت لازم نہیں ہوتی، البتہ اگرمقتول کےورثا مال پرمصالحت کرنا چاہیں توان کواختیارہے۔ پھرصلح میں مال کی مقدارفریقین کی رضامندی پرموقوف ہے، اس میں قتل ِخطا کی دیت سےزیادہ یاکم مقررکرنا بھی جائزہے۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگرقاتل نےقصداًقتل کیا ہواورپھردونوں فریقین نےدیت پرمصالحت کرنےپراتفاق کیا ہوتوقیمت کےاعتبارسےدیت کی کم سےکم مقداردس ہزاردرہم ہے، جس کی مقدار2625تولہ چاندی ہے۔ مارکیٹ میں چاندی کی فی تولہ قیمت معلوم کرکےاس کو2625 سےضرب دیا جائے، جوحاصل آئےاتنی رقم دیت میں اداکی جائے۔
قال أبو حنیفۃ رحمہ اللہ الذي تجب من الدیۃ وتقضی منہ ثلاثۃ أجناس: اللإبل، والذھب، والفضۃ ۔۔۔ قولہ: علیہ السلام، فی النفس المؤمنۃ مائۃ من اللإبل ۔۔۔۔لما روی أنہ علیہ السلام: جعل دیۃ کل ذي عھد في عھدہ ألف دینار ۔۔۔۔عن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ أنہ قال: الدیۃ عشرۃ آلاف درھم بمحضر من الصحابۃ رضی اللہ عنھم. (بدائع الصنائع، کتاب الجنایات، فصل في بیان مایسقط القصاص بعد وجوبہ، ج:10، ص:308،309)
قولہ تبارک وتعالی (فمن عفی لہ من اخیہ شیء) نزل فی الصلح عن دم العمد، فیدل علی جواز الصلح، وسواء کان بدل الصلح قلیلاً أو کثیرا، من جنس الدیۃ أو من خلاف جنسھا، حالا أو مؤجلا ۔۔۔ ونحو ذلک، بخلاف الصلح من الدیۃ علی أکثر مماتجب فیہ الدیۃ أنہ لا یجوز لأن المانع من الجواز ھناک تمکن الربا، ولم یوجد ھھنا،لأن الربا یختص بمبادلۃ المال بالمال ، والقصاص لیس بمال. ( بدائع الصنائع، کتاب الجنایات، فصل وأما بیان ما یسقط القصاص، ج:10، ص: 295)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں