بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک دوسرے کی جگہ ملازمت کرنا


سوال

میں ایک سرکاری ادارہ میں ملازم ہو ں ، میری ڈیوٹی 12 گھنٹے ہوتی ہے اور پھر میرے ایک دوسرے ساتھی کی ڈیوٹی بھی 12 گھنٹے ہوتی ہے  اگر ہم دونوں ساتھی یہ اتفاق کریں  کہ 24 گھنٹے ایک ساتھی ڈیوٹی کرے گا اور 24  گھٹے دوسرا ساتھی ، کیا شرعاً یہ عمل جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

واضح رہے کہ کسی ادارے کا تنخواہ دار  ملازم اجیر خاص  کہلاتا ہے۔ اجیر خاص مقررہ وقت میں حاضر ہونے کا پابند ہوتا ہے اور مالک کی اجازت کے بغیر  کسی اور شخص کو کا م حوالہ نہیں کر سکتا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر ادارہ کے قوانین کی رو سے ملازمین  کو اس بات کی اجازت نہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کی جگہ  ڈیوٹی کریں تو ملازمین کا اپنے مقررہ وقت میں حاضر ہونا ضروری ہوگا اور ایک دوسرے کی جگہ ڈیوٹی کرنا جائز نہ ہوگا۔

 

الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط أن يخيطها بغيره وإن خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن.

( مجلة الأحكام العدلية، الكتاب الأول في الإجارات، المادة:571، ص:106)

وإذا شرط عمله بنفسه بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره. خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للاجير أن يستأجر غيره.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الإجارة، ص:572)


فتویٰ نمبر : 4106/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں