بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
سولر سسٹم کے ذریعے پانی دینے کی اجرت میں پیداوار کا پانچواں حصہ لینا
سوال
ایک بندہ آٹھ سے بارہ، تیرہ لاکھ روپے لگا کر سولر سسٹم نصب کرتا ہے۔ پھر اس سے دوسرے کاشتکاروں کو حصہ کے حساب سے پانی دیتا ہے۔ چونکہ یہاں ٹماٹر کی فصل بوئی جاتی ہے۔ اس لیے ان میں سے عام طور پر پانچواں حصہ لیتا ہے اور نقصان میں سولر سسٹم کا مالک شریک نہیں ہوتا اور اس صورت میں زمین کاشتکار کی ہوتی ہے، تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر پانچویں سے زیادہ کرکے چوتھا کر دیتے ہیں۔ اور نقصان میں شریک ہونے کا کہتے ہیں۔ توکیا اس طرح درست ہوگا؟ بعض مالکان گھنٹہ کے حساب سے پانی دیتے ہیں اور ان سے نقد رقم وصول کرتے ہیں۔ توکیا یہ طریقہ جائز ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ عقد اجارہ میں منفعت اور اجرت کا متعین ہونا لازم ہے، اگر اجرت اور منفعت مجہول ہو، تو اس سے اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔
سوال میں مذكور ه صورت كے اندر چونکہ منفعت (پانی دینا)بھی مجہول ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ سال کے آخر تک کتنی بار پانی دینا پڑے گا، اور اجرت بھی مجہول ہے، اس لیے یہ صورت ناجائز ہے، چاہے پانچوا ں حصہ مقرر ہو یا چوتھائی حصہ، البتہ گھنٹہ کے حساب سے اگر پانی دیا جائے اور اس کی اجرت متعین ہو، مثلا یہ کہ فی گھنٹہ 500 روپے مقرر ہوں، تو اس صورت میں عقد جائز ہوگا۔
(كون الأجرة معلومة) يشترط لصحة الإجارة أي عدم فسادها أولا أن تكون الأجرة معلومة تماما قدرا ونوعا.(يشترط في الإجارة كون المنفعة معلومة بوجه يكون مانعا للمنازعة) أي أنه يشترط في الإجارة أي في صحتها، أولا: أن تكون المنفعة معلومة بوجه يكون مانعا للمنازعة. (دررالحكام شرح مجلة الأحكام، المادة:450،451، ج:1، ص:504)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں