بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
عشاء کی اذان وقت سے پہلے دینا
سوال
جون اور جولائی کے مہینوں میں عشاء کا وقت 9 بجکر 14 منٹ پر داخل ہوتا ہے جبکہ بہت سے مساجد میں عشاء کی اذان 9 بجے ہوتی ہے، کیا یہ اذان بروقت اور صحیح ہے یا قبل از وقت اور غیر معتبر ہے؟
جواب
واضح رہے کہ نماز عشاء کا وقت شفق کے غروب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، صاحبینؒ کے نزدیک شفق سے مراد شفقِ احمر ہے جب کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک شفقِ ابیض مراد ہے۔ فقہائے کرام کے نزدیک امام صاحب کا قول احتیاط پر مبنی ہے اس لیے عام حالات میں اسی پرعمل کرنا چاہیے تاہم اگر کسی نے صاحبین کے قول کے مطابق عشاء کی اذان دی یا نماز پڑھ لی تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر عشاء کا وقت امام صاحب کے قول کے مطابق 9 بج کر14 منٹ (9:14) پر داخل ہوتا ہو اور پھر اس جگہ کی مساجد میں اذان9:00 پر دی گئی، تو ایسی صورت میں یہ اذان صاحبین کے قول کے مطابق صحیح ہو گئی ہے، اس لیے اس کو باہم اختلاف و انتشار کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، تاہم اگر حکمت و مصلحت سے سمجھانا ممکن ہو اور فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو تو پھر نقشہ میں درج وقت کا لحاظ رکھنے کا اہتمام زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔
(و) وقت (المغرب منه إلى) غروب (الشفق وهو الحمرة) عندهما، وبه قالت الثلاثة وإليه رجع الإمام كما في شروح المجمع وغيرها، فكان هو المذهب. (و) وقت (العشاء والوتر منه إلى الصبح … (قوله: وإليه رجع الإمام) أي إلى قولهما الذي هو رواية عنه أيضا، وصرح في المجمع بأن عليها الفتوى، ورده المحقق في الفتح بأنه لا يساعده رواية ولا دراية إلخ. وقال تلميذه العلامة قاسم في تصحيح القدوري: إن رجوعه لم يثبت، لما نقله الكافة من لدن الأئمة الثلاثة إلى اليوم من حكاية القولين، ودعوى عمل عامة الصحابة بخلافه خلاف المنقول. قال في الاختيار: الشفق البياض، وهو مذهب الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة رضي الله عنهم. قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر، وتمامه فيه. وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك كما في الهداية وغيرها. قال العلامة قاسم: فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشى عليه في البحر مؤيدا له بما قدمناه عنه، من أنه لا يعدل عن قول الإمام إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة، لكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر تبعا للنقاية والوقاية والدرر والإصلاح ودرر البحار والإمداد والمواهب وشرحه البرهان وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي السراج: قولهما أوسع وقوله أحوط، والله أعلم.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:1، ص:361)
من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها، وغلبة الظن كافية في ذلك۔ (ردالمحتار، كتاب الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:431)
لما في مبسوط السرخسي من أن الأخذ بالاحتياط في باب العبادات واجب .(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، ض:2، ص:366)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں