بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرض کے عوض عقد مزارعت کرنا


سوال

دو اشخاص کے درمیان زمین کا معاملہ اس طرح طے پا رہا ہے کہ ایک شخص زمین کے مالک کو 4 لاکھ روپے نقد رقم قرض پردیتا ہے، اور اس رقم کے بدلے وہ مالک سے اس کی زمین دو سال کے لیے مزارعت پر لیتا ہے۔ معاملے کی شرائط درج ذیل ہیں(1) اس دو سالہ مزارعت کے دوران زمین کی پیداوار کا نصف یا ایک تہائی حصہ زمین کے مالک کو جائے گا اور باقی حصہ رقم دینے والے کا ہوگا۔ (2) دو سال کا عرصہ مکمل ہونے پر، زمین کا مالک رقم دینے والے شخص کو اس کے 4 لاکھ روپے پورے واپس کر دے گا اور یہ اجارہ بھی ختم ہو جائے گا کیا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے عوض کسی بھی قسم کا مشروط نفع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ایک شخص کا دوسرے شخص کو اس شرط پر قرض دینا  کہ"مجھے زمین مزارعت پر دو گے" جائز نہیں۔

 

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، ج:5، ص:166، مكتبة: دار الكتب العلمية بيروت)

كل قرض يشترط فيه منفعة فهو حرام هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد فإن لم تكن مشروطة فدفع أجود فلا بأس. (درر الحكام في شرح المجلة الأحكام، كتاب العاشر، الخاتمة، ج:3، ص: 94، مكتبة: المكتبة العربية)


فتویٰ نمبر : 4109/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں