بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے کا بھیجا ہوا کھانا کھانا


سوال

اگر گھر کے پڑوسی ایسے ہوں کہ جن كی ذرائعِ آمدن سب حرام ہوں، تو ایسی صورت میں اگر وہ ہمارے گھر سالن وغیرہ بھیجیں، تو کیا شرعی لحاظ سے ہمارے لیے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر پڑوسی کی کل یا اکثر آمدنی حرام ذرائع سے حاصل ہو تو اس کے گھر کا کھانا کھانا یا اس کا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ،اور اگر اس کی اکثر آمدنی حلال ذرائع سے حاصل ہواور کچھ حصہ حرام ذرائع سے حاصل ہو لیکن حلال آمدنی کی مقدار زیادہ ہو تو ایسی صورت میں اس کا کھانا کھانے کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں بھی اگر اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

 

وفي عيون المسائل : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه ۔(المحيط البرهاني،‌ كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السابع عشر فی الھدایا والضیافات،ج:5،ص:368)

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط۔ (الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،ج:5،ص:343)

 


فتویٰ نمبر : 6700/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں