بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرنسی کی ادھار بیع


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص کو سات سو  درہم فروخت کیے اور معاملہ طے کرتے وقت کہا کہ میں آپ کو یہ سات سو درہم ابھی دیتا ہوں، البتہ آپ مجھے پاکستانی کرنسی میں اس کی  جو رقم بنتی ہے، اس سے کچھ زیادہ  ایک ماہ بعد ادا کریں گے کیا یہ معاملہ کرناجائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا باہم تبادلہ  چونکہ دو مختلف اجناس کا تبادلہ ہے، اس لیے اس میں کمی بیشی اور ادھار کی گنجائش ہے، بشرطیکہ عقد کے وقت دونوں کرنسیوں کی مقدار متعین کر دی جائے تاکہ نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔ نیز مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں میں سے کم از کم ایک پر قبضہ ہونا بھی ضروری ہے، تاکہ معاملہ ادھار کے بدلے ادھار نہ بن جائے۔

 صورت مسئولہ میں اگر ایک شخص دوسرے شخص کو سات سو درہم فروخت کرے اور عقد کے وقت یہ طے ہوجائے  کہ سات سو درہم ابھی خریدار کے حوالے کر دیے جائیں گے اور عقد کے وقت پاکستانی کرنسی کی مقدار  اور ادائیگی کی تاریخ متعین کر دی گئی ہو اور مجلس عقد میں دراہم پر قبضہ بھی ہو گیا ہو تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔

 

عن ابن عمر ، أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ.(سنن الدارقطني، كتاب البيوع، ج:4، ص:40)

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:179)

وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء؛ لعدم العلة المحرمة.( الهداية، كتاب البيوع، باب الربا، ج:3، ص:61)

البيع مع تأجيل الثمن و تقسيطيه صحيح يلزم ان تكون المدة معلومة فى البيع بالتأجيل والتقسيط أي أنه يلزم أن يكون الاجل معلوم الوقت عند كلا العاقدين، لأن جهالة تقضي الى النزاع. (شرح المجلة لسلیم رستم باز، كتاب البيوع، الفصل الثاني،المادة:246،245 ص:124، 125)


فتویٰ نمبر : 4105/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں