بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سورة الفاتحہ پیشاب سے لکھنا


سوال

علاج كے ليے سورة الفاتحہ پیشاب سے لکھنا جائز ہے یا نہیں؟ راہنمائی فرمائے۔

 

جواب

واضح ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی پاک اور معزز کتاب ہے، شریعت مطہرہ  نے  بے وضو ہونے کی حالت میں اس کے چھونے سے منع فرمایا ہے، اور جب اس کو نجس حالت میں چھونا جائز نہیں، تو اس کو نجس اشیا سے لکھنا بطریقہ اولی حرام  ہو گا، بلکہ اس سے تو قرآن پاک کی توہین کا اندیشہ ہے۔ اور سورۃ الفاتحہ قرآن ہی کا جز ہے اس لیے اس کا حکم بھی قرآن کا حکم ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی بھی حالت میں سورۃ الفاتحہ کو، پیشاب سے لکھنا جائز نہیں، نہ علاج کے لیے اور نہ غیر علاج کے لیے۔

 

قال الله تعالی: ﴿لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ (سورة الواقعة، آيت:79)

واختلف العلماء في مس المصحف على غير وضوء، فالجمهور على المنع من مسه. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، ج:17، ص:223)

فروع: اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي... (قوله وظاهر المذهب المنع) محمول على المظنون كما علمته (قوله لكن نقل المصنف إلخ) مفعول نقل قوله وقيل يرخص إلخ والاستدراك على إطلاق المنع، وإذا قيد بالمظنون فلا استدراك. ونص ما في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولا ينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلا يرخص له فيه. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطهارة، ج:9، ص:366)

 ويحرم كتب القرآن أو شيئ من أسمائه تعالی بنجس أو علی نجس. (حاشية البجيرمي علی الخطیب، ج:1، ص:550)


فتویٰ نمبر : 6696/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں