بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچوں کے نابینا ہونے کی وجہ سے بچہ دانی نکلوانا


سوال

ایک شخص کے دو بچے ہیں اور دونوں نابینا ہیں، میاں بیوی نے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو ڈاکٹر نے کہاکہ بیوی میں بیماری ہے، اس لیے اس کے آئندہ ہونے والے بچے بھی اسی طرح  نابینا ہوں گے، اب سوال یہ ہے کہ کیا  اس شخص کی بیوی کے لیے بچہ دانی نکلوانا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ کسی مرد یا عورت کا اپنی تولیدی صلاحیت کو مکمل ختم کرنا جائز نہیں، البتہ اگر حمل ٹھہرنے سے عورت یا اس کے بچے کے مرنے کا یا اس کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،تو ایسی صورت میں عارضی طور پر مانع حمل تدابیر اختیار کرنا جائز ہے، جیسےعزل کرنا(یعنی بیوی کی شرمگاہ سے باہر انزال کرانا، کنڈوم استعمال کرنا)مانع حمل ادویات استعمال کرنا،وغیرہ  ۔

لہذا صورت مسئولہ میں  مذکورہ عورت کے لیے بچہ دانی نکلوانا جائز نہیں،تاہم عارضی طور پر مانع حمل تدابیر اختیار کرنا جائز ہے۔

 

والحجة فيه أنهم اتفقوا على منع الجب والخصا فيلحق بذلك ما في معناه من التداوي بالقطع أصلا. (فتح الباري، كتاب النكاح، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من استطاع الباءة فليتزوج، ج:9، ص:111)

خصاء بني آدم حرام بالاتفاق. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:412)

تنبيه أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء مخالفا لما بحثه في البحر من أنه ينبغي أن يكون حراما بغير إذن الزوج قياسا على عزله بغير إذنها. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب النكاح، ج:4، ص:336)

قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها (قوله قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب النكاح، ج:4، ص:335)


فتویٰ نمبر : 6697/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں