بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جانوروں کو حاملہ کرانے کے لیے انجکشن لگوانا اور اس کی اجرت لینا


سوال

جانوروں کو حاملہ کرانے کے لیے انجکشن لگوانا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حمل ٹھہرانےکے لیے جانوروں کو انجکشن لگانا ایک غیر فطری عمل ضرور ہے، لیکن جانوروں  کی افزائش نسل کے لیے اس طرح کا  عمل کرنے پر شریعت میں کوئی پابندی نہیں۔ نیز چونکہ انجکشن لگوانا علاج کے زمرے میں آتا ہے اور علاج پر اجرت لینا جائز ہے، اس لیے انجکشن لگانے پر اجرت لی جاسکتی ہے۔

 

عن ابن عباس قال احتجم النبي {صلى الله عليه وسلم} وأعطى الحجام أجره ولو علم كراهية ًلم يعطه. (صحیح البخاری، رقم الحديث:1997)

فيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، - - قيل عليه وقيل عليها. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،ج:9، ص:93)

وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة. (مجمع الانهر فی شرح ملتقی الابحر، ج:4، ص:244)


فتویٰ نمبر : 4110/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں