بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

CPDپواینٹس کے لیے رشوت دینا


سوال

میں نے پہلے دارالافتاء میں پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کے کارڈ سے متعلق سوال جمع کروایا تھا، جس پر جواب ملا تھا کہ اس کارڈ کو بیچنا جائز نہیں ہے۔ اب اس سلسلے میں چند مزید اشکالات پیدا ہو گئے ہیں جن کی وضاحت درکار ہے: *1.* میرا PEC کارڈ CPD پوائنٹس نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپائر ہو چکا ہے۔ قانونی طور پر CPD پوائنٹس کے بغیر کارڈ رینیو نہیں ہوتا، نہ کوئی جرمانہ ادا کر کے رینیو کروانے کا طریقہ موجود ہے۔ *2.* صورتحال یہ ہے کہ PEC کے اندر موجود بعض افسران/ایجنٹس چار پانچ ہزار روپے لے کر جھوٹے طریقے سے سسٹم میں CPD پوائنٹس ڈال دیتے ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلاں کلاس لی، فلاں کورس کیا، اور اس طرح کارڈ رینیو کر دیتے ہیں۔ یہ کام PEC کے اپنے لوگ ہی کرتے ہیں۔ *3.* اگر میں یہ طریقہ اختیار نہ کروں تو میرا کارڈ رینیو نہیں ہوگا۔ اور کارڈ کے بغیر: - میں پاکستان میں کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ انجینئرنگ جاب کے لیے اپلائی نہیں کر سکتا۔ - بیرونِ ملک بھی جاب کے لیے PEC رجسٹریشن لازمی ہے، اس کے بغیر اپلائی ممکن نہیں۔ - گویا میں انجینئر ہوتے ہوئے بھی کسی کام کا نہیں رہتا۔ *4.* مزید یہ کہ اگر آئندہ تین سال بعد پھر CPD پوائنٹس پورے نہ ہوئے تو دوبارہ یہی مشکل پیش آئے گی۔ *لہٰذا دریافت طلب امور یہ ہیں:* *الف:* کیا ایسی مجبوری کی حالت میں، جہاں روزگار کا دارومدار اسی کارڈ پر ہو اور قانونی راستہ موجود نہ ہو، PEC کے ایجنٹس کو پیسے دے کر جھوٹے پوائنٹس لگوا کر کارڈ رینیو کروانا جائز ہے؟ *ب:* اگر یہ صورت جائز نہیں، تو کیا کسی کمپنی کے ساتھ اٹیچ ہو کر کارڈ کو استعمال کرنا/بیچنا جائز ہو جائے گا؟ کیونکہ کارڈ کے بغیر تو کوئی جاب ملنا ہی مشکل ہے۔ *ج:* اگر دونوں صورتیں ناجائز ہیں، تو ایک انجینئر کے لیے شرعی حل کیا ہے؟ کیا وہ انجینئرنگ فیلڈ چھوڑ کر کوئی اور کام کرے؟ کارڈ رینیو کرنے کی 2 شرطیں ہیں: 1. پوائنٹس پورے ہوں یہ پوائنٹس صرف سائٹ کے کام سے نہیں ملتے، اس میں ویبینارز اور کورسز سے بھی ملتے ہیں۔ 2. انجینئر خود پاکستان میں ہو اور اس کی کمپنی بھی PEC سے رجسٹرڈ ہو۔ جو لوگ بیرونِ ملک جاب کر رہے ہیں، ان کا کارڈ رینیو نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ جس کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں وہ PEC سے رجسٹرڈ نہیں ہوتی۔

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا پیسے دے کر  دھوکہ دہی کے ساتھ    کسی شے کو حاصل کرنا   رشوت کے زمرے میں آتا ہے جو  جائز نہیں  ۔نیز اپنی ڈگری کسی اور کو دینا اور  اس سے پیسے لے کر استعمال کرنے کی مکمل اجازت دینا بھی دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں ہماری معلومات کے مطابق  پاکستاب انجینیرنگ کونسل سے ہر تین سال بعد کارڈ رینیول ضروری ہوتا ہے جس کے لیے مخصوص CPDپواینٹس درکار ہوتے ہیں    جس کے حاصل کرنے کا اپنا ایک مخصوص طریقہ کار ہوتا ہے،ادارہ کی جانب سے یہ ایک قانونی عمل ہے جس کا مقصد انجینیرز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوتاہے ، اس لیے کسی ایجنٹ کو پیسے دے کر    لیگل طریقہ کار سے ہٹ کر  ان  پواینٹس کو حاصل کرنا  دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو ناجائز ہے۔ اسی طرح انجینیرز  کا  کسی کمپنی سے پیسے لے کر اس کو اپنی ڈگری بیچنا   بھی دھوکہ دہی ،جھوٹ اور پاکستان انجینیرنگ کونسل کے قانون کی خلاف ورزی ہے جو کہ جائز نہیں ۔ انجینیرز کو ڈگری بیچنے کی اجازت نہ دینا   اور ڈگری رینیول کے لیے  ہر تین سال بعد CPDپواینٹس کو لازم کرنا مصلحت پر مبنی قانون ہے جس کی رعایت لازم ہے ۔البتہ انجینیرز کے لیے ضروری ہے کہ اگر  اس قانون پر عمل کرنے  میں ان کے لیے کوئی رکاوٹ یا مشکلات ہوں تو سب متحد ہوکر   کونسل کو اس حوالے سے مطمئن کریں تاکہ وہ ان مشکلات کے ازالہ کے لیے اقدامات کرے۔

 

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ.(سنن أبي داود،کتاب القضاء، رقم الحدیث:3580 ج:3، ص:326)

قال العلامۃ الشامی رحمہ اللہ: قوله: (أمر السلطان إنما ينفذ): أي يتبع، ولا تجوز مخالفته، وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله: أمرك قاض بقطع، أو رجم إلخ ،التعليل بوجوب طاعة ولي الأمروفي ط: عن الحموي ؛أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة.(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب القضاء، ج:5، ص: 422)


فتویٰ نمبر : 6710/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں