بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آدھے پیداوار کے بدلے زمین مزارعت پر دینا


سوال

اگر کوئی  مالکِ زمین صرف اپنی زمین کاشتکار کو ٹماٹر، جوار یا گوبھی کی فصل کے لیے دیتا ہے، اور اس سے آدھا حصہ طلب کرتاہے، اور اس کے ساتھ نقصان میں شریک نہیں ہوتا تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح اگرچوتھائی یا پانچویں حصہ پر دے تو ٹھیک ہوگا ؟ نیز کنویں سے کھیت تک پائپ بچھانا اور پہنچانا عام طور پر کاشتکار ہی کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے ، تو یہ کس کی ذمہ داری ہونی چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ مزارعت میں اگر ایک فریق کی طرف سے صرف زمین ہواور دوسرے فریق کی جانب سے ٹریکٹر، تخم اور عمل وغیرہ سب ہو، تو یہ صورت جائز ہے، بشرط یہ کہ دونوں کا حصہ تناسب کے اعتبار سےمتعین ہو،مثلا  آدھا، تہائی، چوتھائی وغیرہ، اور زمین تک پانی پہنچانا اور اس کا انتظام کرنا کاشتکار کی ذمہ داری ہے۔ نیز یہ کہ مزارعت میں نقصان کے اندر  فریقین کی شرکت لازم نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق مزارعت کی مذکورہ صورت جائز ہے، چاہےمالک زمین کے لیے پیداوار کا آدھا حصہ مقرر کیا جائے، یا چوتھا اور پانچواں حصہ،اور کنویں سے  کھیت تک پائپ بچھانا اور پانی پہنچانا کاشتکار کی ذمہ داری ہے۔

 

فهو على ستة وجوه: ثلاثة منها جائزة وثلاثة منها فاسدة أما الثلاثة الأول: فأحدها أن تكون الأرض من أحدهما والبذر والبقر والعمل من الآخر وشرطا لصاحب الأرض شيئا معلوما من الخارج جاز لأن صاحب البذر يكون مستأجرا الأرض بشيء معلوم من الخارج. (الفتاوى الهندية، کتاب المزارعة، ج:5، ص:275)

وأما أحكامها: منها أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج الزرع إليه لإصلاحه فعلى المزارع. (الفتاوى الهندية، کتاب المزارعة، ج:5، ص:274)

ولو شرط الدولاب والدالية على أحدهما فهو كاشتراط البقر على أحدهما لأن الدالية والدولاب آلة السقي والسقي على المزارع فإن كان مشروطا على المزارع فهي جائزة من أيهما كان البذر، وإن كان مشروطا على رب الأرض والبذر من العامل فهي فاسدة، وإن كان البذر من رب الأرض فهي جائزة كما في اشتراط البقر. (الفتاوى الهندية، کتاب المزارعة، ج:5، ص:281)

ومنها أن يكون ذلك البعض من الخارج معلوم القدر من النصف أو الثلث أو الربع أو نحوه. ومنها أن يكون جزءا شائعا من الجملة. (الفتاوى الهندية، کتاب المزارعة، ج:5، ص:272)


فتویٰ نمبر : 4101/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں