بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سنی کا اسماعیلی سے نکاح کرنا


سوال

میں سنی ہوں، اللہ کا شکر ہے، لیکن ایک یتیم لڑکی ہے، اسماعیلی ہے جس کو طلاق ہوئی ہے لیکن اس کی دو بیٹیاں ہیں اور کوئی نہیں ہے، بہت بے بس ہیں، میں کوشش کرتا ہوں کہ دونوں بچوں کو اپنے سنی مسلک میں لانے کے لیے اور دونوں بیٹیاں کافی دلچسپ ہیں، اب بات یہ ہے کہ میں اس اسماعیلی لڑکی سےشادی کرنا چاہتا ہوں توکیا یہ نکاح جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیےضروری ہےکہ لڑکا اورلڑکی دونوں مسلمان ہوں، تاہم اگران دونوں میں سےکوئی ایک غیرمسلم ہویا اس کےعقائد ایسے ہوں کہ جن سے ضروریات دین کا انکارلازم آتا ہو، جیسے: اللہ سبحانہ وتعالی کو صفات سےخالی ماننا،اماموں کو انبیائےکرام کی طرح معصوم سمجھنا، معجزات کو باطل سمجھنا، ختم نبوت کا انکار کرنا اورمحمد بن اسماعیل کو آخری نبی ماننا، صحابہ کرام ؓ سے بغض رکھنا خصوصاً حضرات شیخین سے، قیامت کا انکا ر کرنا اور تناسخ کا عقیدہ رکھنا وغیرہ توایسے آدمی کے ساتھ  نکاح کرنا جائز نہیں ۔چونکہ اسماعیلی فرقہ کے لوگ بھی مندرجہ بالا عقائد کےحامل ہوتے ہیں، لہذا ان سےنکاح کرناجائزنہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل کی یہ نیت ہو کہ اسماعیلی عورت کےساتھ  نکاح کےبعد اسےاوراس کی بچیوں کو اپنےمسلک میں لےآئیں گے، توشرعاً محض اس نیت کی بنیاد پراسماعیلی لڑکی سےنکاح جائزنہیں ہوسکتا، پہلےوہ صدقِ دل سےتمام کفریہ عقائد سے توبہ تائب ہوکرسنی مسلمان ہوجائےتوپھراس سےنکاح کیا جاسکتا ہے۔

 

‌قال اللہ تعالی: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾. (الممتحنة: ١٠)

وبهذا ظهر أن ‌الرافضي ‌إن ‌كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، مطلب في وطي السراري، ج:4، ص:135)

ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما  فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة لقوله تعالى { ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن } ويجوز أن ينكح الكتابية لقوله عز وجل{والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} والفرق أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح. (بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل في شرط أن يكون للزوجين،ج:3،ص458)

لا يجوز نكاح المجوسيات ۔ ۔ ۔ والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية وكل مذهب يكفربه معتقده كذافي فتح القدير.(الفتاوی الهندية، الباب الثالث فی بیان المحرمات،القسم السابع المحرمات بالشرک،ج:1،ص:282)


فتویٰ نمبر : 7451/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں