بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈراپ شپنگ اختیار کرنے کا شرعی حکم


سوال

عام طور پر جس مال پر آدمی نے قبضہ نہ کیا ہو، اسے آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوتا۔ میں ای کامرس کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں، لیکن چونکہ یہ میرا پہلا تجربہ ہے، اس لیے ابتدا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ لگانے اور مال خرید کر اسٹاک رکھنے سے گریز کرنا چاہتا ہوں تاکہ اگر کاروبار نہ چلے تو مجھے زیادہ مالی نقصان نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے میں ابتدائی مرحلے میں ڈراپ شپنگ کے طریقے پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ میرا طریقۂ کار یہ ہوگا کہ میں فیس بک یا اپنی Shopify ویب سائٹ کے ذریعے کسٹمر سے آرڈر وصول کروں گا، پھر وہی آرڈر کسی سپلائر کو بھیج دوں گا، اور سپلائر براہِ راست کسٹمر کو سامان بھیج دے گا۔ اس دوران سامان میرے قبضے یا ملکیت میں نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں اس کاروبار میں اپنی طرف سے کوئی اضافی منافع نہ رکھوں، یا منافع رکھوں لیکن وہ مکمل رقم اشتہارات، مارکیٹنگ اور دیگر کاروباری اخراجات میں خرچ ہو جائے، تو کیا اس صورت میں یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا؟ یا چونکہ سامان میرے قبضے میں نہیں آیا، اس لیے اس کا حکم وہی رہے گا؟ مزید یہ کہ اگر اخراجات نکالنے کے بعد کچھ رقم میرے پاس بچ جائے اور میں اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانے کے بجائے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دوں، تو کیا اس سے معاملے کے حکم میں کوئی فرق پڑے گا؟ نیز میری نیت یہ ہے کہ اگر کاروبار چل پڑا اور مجھے اطمینان ہو گیا تو بعد میں میں خود مال خرید کر اپنے قبضے میں لیا کروں گا اور پھر کسٹمر کو فروخت کیا کروں گا۔ فی الحال صرف ابتدائی نقصان سے بچنے اور کاروبار کو آزمانے کے لیے ڈراپ شپنگ کا طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا میرے لیے اس طرح ڈراپ شپنگ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز)بائع (فروخت کرنے والا)کی ملکیت اور قبضہ میں موجود  ہو چنانچہ ا گر مبیع بائع کی ملکیت اورقبضہ میں نہ ہو تو معاملہ جائز نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق آن لائن کاروبار میں اگر مبیع بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں نہ ہو اور وہ محض کسی چیز کا  اشتہار یا تصویر دکھا کر کسی کو فروخت کر دے، تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس سے حدیثِ مبارک میں منع فرمایا گیا ہے۔ نیز اضافی رقم نہ لینےیا اخراجات کے بقدر رقم لینے سے شرعی حکم پر کوئی  اثر نہیں پڑتا، بلکہ ایسا معاملہ بہر حال ناجائز ہے۔ لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

البتہ اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہےکہ گاہک سے آرڈر لیتے وقت حتمی معاملہ نہ کیا جائے، بلکہ فروختگی کا وعدہ کیا جائے، پھر وہی چیز متعلقہ کمپنی یا سپلائر سے خرید کر خود یا وکیل کے ذریعے قبضہ میں لی جائے پھر کسٹمر سے معاملہ کر کے اس کو بھیج دیا جائے۔ خواہ دوبارہ باقاعدہ ایجاب وقبول ہو یا تعاطی کے ذریعے بیع ہو۔ تعاطی کا مطلب یہ ہے کہ فروخت کنندہ سامان بھیج دے اور خریداراس کی قیمت ارسال کردے۔ جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ سائل اس سپلائر کی جانب سے اس کا مال فروخت کرنے کا وکیل  بن جائے اور اس کے لیے ہی وہ چیز فروخت کرے، جبکہ اپنے لیے کمیشن یا متعین اجرت کا معاہدہ کرے تو یہ صورت بھی جائز ہے۔

 

عن حكيم بن حزام قال: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن لا أخر إلا قائما.قال: قلت:يا رسول الله، الرجل يسألني البيع، وليس عندي، أفأبيعه؟ قال:"لا تبع ما ليس عندك. (السنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، ج:8 ص:95)

(ومنها) أن يكون مملوكا.لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك…(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واما الذی يرجع الی المعقود عليه، ج:5، ص:147)


فتویٰ نمبر : 4111/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں