بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نقد کے مقابلے میں ادھار پر زائد قیمت کے ساتھ فروخت کرنا


سوال

ایک شخص کا نام زید ہے جس کے پاس سرمایہ (رقم) موجود ہے، جبکہ دوسرے شخص کا نام انعام اللہ ہے جو کشتیوں کا کاروبار کرتا ہے اور اسے کشتیوں کے لیے ڈیزل کی ضرورت ہوتی رہتی ہے۔ انعام اللہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کے لیے ڈیزل خریدتا ہے۔ ڈیزل کے ریٹ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ نقد خریداری کا ریٹ الگ ہوتا ہے اور ادھار خریداری کا ریٹ الگ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک دن ڈیزل کا نقد ریٹ 32,000 روپے فی ڈرم ہے، جبکہ ادھار ریٹ 33,500 روپے فی ڈرم ہے۔ انعام اللہ کے پاس اس وقت نقد رقم موجود نہیں ہوتی، اس لیے وہ زید سے رابطہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ: "آپ مجھے 30 لاکھ روپے دیں، میں آپ کی طرف سے ڈیزل خرید کر آپ کا مال آپ کو قبضے میں دلا دوں گا۔" زید 30 لاکھ روپے فراہم کرتا ہے۔ انعام اللہ  زید کی طرف سے تقریباً 93 ڈرم ڈیزل نقد ریٹ (32,000 روپے فی ڈرم) کے حساب سے خریدتا ہے۔ اس خریداری کے وقت کشتی میں موجود ایک شخص کو زید کی طرف سے وکیل بالقبضہ مقرر کیا جاتا ہے، تاکہ وہ زید کی طرف سے ڈیزل کا قبضہ حاصل کرے۔ اس کے بعد انعام اللہ زید سے خریدے ہوئے ڈیزل کو اپنے کاروباری استعمال کے لیے زید سے خرید لیتا ہے، یعنی زید کا مال اپنے لیے 45 سے 50 دن کی ادھار مدت پر خریدتا ہے۔ اس ادھار فروخت کی قیمت 33,500 روپے فی ڈرم مقرر ہوتی ہے۔ انعام اللہ زید کو 45 سے 50 دن بعد ادائیگی کے لیے چیک دے دیتا ہے۔ اس طرح زید کو اصل رقم (30 لاکھ روپے) کے علاوہ تقریباً 140000 روپے منافع حاصل ہوتا ہے۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ انعام اللہ کا پورا کاروبار اس کے والد صاحب کے زیر انتظام ہے۔ انعام اللہ کو صرف کاروبار چلانے اور فیصلے کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ انعام اللہ زید سے ڈیزل خرید کر اپنے والد صاحب کے کاروبار میں آگے استعمال کرتا ہے، یعنی ایک طرف وہ زید کی طرف سے خریداری کرتا ہے اور دوسری طرف اپنے کاروباری نظام میں اس مال کو استعمال کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی بھی چیز، نقد کے مقابلے میں ادھار  زائد قیمت کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ  مجلس عقد میں عاقدین کی رضامندی سے  قیمت  اور ادائیگی طے ہوجائے اور معاملہ مبہم نہ رہے۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی شخص   کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ دےکہ’’تم مال خرید لو پھر میں  تم سے خرید لوں گا‘‘  تو اس کی حیثیت صرف وعدہ کی ہوگی لہٰذا دوسرے شخص کے مال خریدنے کے بعد نہ تو پہلا شخص   اسے پابند کرسکتا ہے کہ یہ مال مجھے ہی  بیچو،  نہ دوسرا شخص پہلے کو خریدنے پر مجبور کرسکتا ہے البتہ باہمی رضامندی سے بعد میں   معاملہ طے کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں بشرطیکہ   پہلے شخص (مشتری اول ) نےخریدی ہوئی چیز پر    خود  یا بذریعہ  وکیل   قبضہ کیاہو۔  

  صورت مسئولہ  میں  جب انعام اللہ  نےزید  کے لئے تیس لاکھ روپے پر ڈیزل نقد ریٹ (32,000 روپے فی ڈرم) کے حساب سے خریدا اور پھر کشتی میں موجود ایک شخص کو زید کی طرف سے وکیل بالقبض مقرر کیا، او ر اس کو ڈیزل  کے ڈرم حوالہ کئے پھر انعام اللہ نے( 33500 فی ڈرم  ) کے حساب سے وہ تیل خود خرید لیا تو یہ معاملہ جائز نہیں کیونکہ "وکیل بالقبض" انعام اللہ نے مقرر کیا تھا جب کہ وہ زید کو مقرر کرنا چاہیئے تھا،نیز اس کے بعد   انعام اللہ نے  زید  یا اس کے وکیل کے ساتھ ایجاب وقبول نہیں کیا بلکہ خود ہی خریدار بھی  بنا اور فروخت کنندہ بھی اس لیے یہ معاملہ جائز نہیں۔ البتہ  اس کی جائز صورت یہ ہے  کہ  جب انعام اللہ زید کے لئے ڈیزل خرید لے تو پہلے زید کو  کو یا اس کے مقرر کردہ  وکیل کو    حوالہ کردےاس کے بعد  انعام اللہ زید کے ساتھ    یا اس کے مقرر کردہ  وکیل کے ساتھ ایجاب وقبول کر کے مستقل معاملہ کرے۔

 

 لأن البيع عقد معاوضة لا ينعقد إلا بإيجاب وقبول۔(المبسوط  للسرخسي، 6/ 181)

 وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد۔ (المبسوط للسرخسي  13/ 8)

 لأن بيع المنقول قبل القبض لا يجوز۔( تحفة الفقهاء، 2/ 111)

لأن قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل. المحيط البرهاني ، 7/ 204)

وصح بثمن حال وهو الاصل ومؤجل الي معلوم لئلا يفضى الي النزاع وقال إبن عابدين تحته: قوله (لئلا يفضى الي النزاع) تعليل لاشتراط كون الاجل معلوما لان علمه لا يفضى الى النزاع واما مفهوم الشرط المذكور وهو انه لايصح اذا كان الأجل مجهولا فعلته كونه يفضى الى النزاع فافهم۔( ردالمحتار على الدر المختار ،7/139)


فتویٰ نمبر : 4117/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں