بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوئمنگ پول (Swimming Pool) کے پانی سے وضواورغسل کرنے کا حکم


سوال

آج کل پارکوں اور تفریحی مقامات پر بڑے سوئمنگ پول ہوتے ہیں جن میں بہت سے لوگ نہاتےہیں ۔نہاتے وقت جسمانی میل کچیل  یا نجاست کے گرنے کا بھی احتمال رہتا ہے ۔تو کیا ایسے سوئمنگ پول  کے پانی  سے وضو یا غسل کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس تالاب کا حجم "دہ دردہ" (یعنی تقریباً 225 مربع فٹ ) یا اس سے زیادہ ہو، وہ فقہی اعتبار سے بہتے پانی کے حکم میں شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ اگراس میں کوئی نجاست گر جائے تو محض نجاست کے گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا، جب تک اس کے اثرات (رنگ، بو یا ذائقہ) پانی میں ظاہر نہ ہوں۔ اور اگر تالاب  کا حجم اس مقدار سے کم ہو اوراس میں نجاست گرنے کا یقین ہو جائے تو سارا پانی ناپاک شمار ہوگا، اور اس سے وضو یا غسل کرنا جائز نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ  کے مطابق اگرسوئمنگ پول  ( 225 مربع فٹ )یا اس سے بڑا ہو، تو  وہ ماءِ جاری (بہتے پانی) کے حکم میں شمار ہوگا۔ ایسے سوئمنگ پول میں اگر کوئی نجاست گر جائے تو جب تک اس کے اثرات پانی میں ظاہر نہ ہوں، یعنی پانی کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو، اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے۔ اور اگر سوئمنگ پول مذکورہ مقدار سے کم ہو اور اس میں نجاست گرنے کا یقین ہو جائے، تو اس کا پانی ناپاک شمار ہوگا، اور اس سے وضو یا غسل کرنا جائز نہیں ہوگا۔

 

الحوض إذا کان عشرًا في عشر جاز التوضؤ منه والاغتسال فیه.(الفتاوى السراجية، كتاب الطهارة، باب ما يجوز به الوضوء والغسل، ص:33)

الحوض الکبیر مقدر بعشرة أذرع في عشرة أذرع و علیه الفتوی.(خلاصة الفتاوى، كتاب الطهارة، ج:1، ص:6)


فتویٰ نمبر : 11001/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں