بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پانی نہ ہونے کی صورت میں نجس کپڑوں میں نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی شخص کے کپڑوں پر نجاست لگی ہو اور وہ خود بھی ناپاک ہو (یعنی اس پر غسل واجب ہو چکا ہو)،ليكن وہ ایسی جگہ موجود ہو جہاں دور دور تک پانی دستیاب نہ ہو، تو وہ غسل کی جگہ تیمم کرے گا۔ لیکن ایسی صورت میں اس کے نجس کپڑوں کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ انہی ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  اللہ تعالی نے امت محمدیہ پر دیگر انعامات کے ساتھ ساتھ ایک نعمت یہ  بھی فرمائی ہے کہ اس امت کے لیے زمین کو پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ (آلہ طہارت) بنا دیا ہے۔ اس لئے ا گر کوئی شخص ایسی جگہ موجود ہو جہاں اس کا غالب گمان یہ ہو کہ ایک میل   کے فاصلے تک پانی دستیاب نہیں ہے، تو شرعاً اس آدمی کے لیے تیمم کرنے کی گنجائش ہے، پھر چاہے اسے وضو کی ضرورت ہو یا غسل کی، دونوں صورتوں میں (پاکی حاصل کرنے کے لیے)  وه تیمم کر سکتا ہے۔   نیز اگر اس دوران اس کے  کپڑوں پر  ناپاکی ہو  تو  اگر   نجاست ایسی ہو کہ رگڑنے سے صاف ہوتی ہو تو اس کو رگڑ کر صاف کرے گا  اور اگر رگڑنے سے صاف نہیں ہوتی تو اگر اس کے پاس دوسرا پاک  کپڑا موجود ہو تو  اس کو پہن  لے  گااور اگر دوسرا کپڑا ساتھ نہ ہو تو دیکھا جائے گا کہ اگر کپڑا کا ربع(چوتھائی حصہ) پاک ہو تو اسی میں نماز پڑھ لے اوراگر چوتھائی حصہ بھی  پاک  نہ ہو تو پھر اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ اس نجس کپڑے میں نماز پڑھے اور یہ بھی جائز ہے کہ  ننگا ہو کر نماز پڑھے البتہ ننگا ہونے سے اس نجس کپڑوں میں  نماز پڑھنا  بہتر ہے۔

 

حدثنا جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أعطيت خمسا، لم يعطهن أحد من الأنبياء قبلي: نصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا، وأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل، وأحلت لي الغنائم، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى الناس كافة، وأعطيت الشفاعة).( صحيح البخاري،1/ 168)

 ولو وجد ثوبًا ربعه طاهرٌ وصلّى عريانًا لم يجز وخيّر إن طهر أقلّ من ربعه۔ (كنز الدقائق، ص: 158 )

 يتيمّم لبعده ميلًا عن ماءٍ أو لمرضٍ أو بردٍ أو خوف سبعٍ أو عدوٍّ أو عطشٍ أو فقد آلةٍ۔(كنز الدقائق،ص: 144)

(ولو وجد ثوبا ربعه طاهر وصلى عريانا لم يجز) لأن ربع الشيء يقوم مقام كله فصار كما لو كان كله طاهرا قال رحمه الله (وخير إن طهر أقل من ربعه) أي إذا كان الطاهر أقل من الربع يخير بين أن يصلي فيه وهو الأفضل لما فيه من الإتيان بالركوع والسجود وستر العورة وبين أن يصلي عريانا قاعدا يومئ بالركوع والسجود۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،1/ 97)

مسافر غلب على ظنه أن بقربه ماء وجب الطلب بقدر غلوة ولا يجب الطلب عليه بغير غلبة ظن أو إخبار.(الفتاوى الهندية،1/ 29)

وإن توضأ بالماء وصلى في الثوب النجس جاز ويكون مسيئا فيما فعل. كذا في فتاوى قاضي خان. ( الفتاوى الهندية،1/ 29)

فلو وجد ماء يكفي لإزالة الحدث أو غسل النجاسة المانعة غسلها وتيمم عند عامة العلماء، وإن عكس وصلى في النجس أجزأه وأساء خانية، ولو تيمم أولا ثم غسلها يعيد التيمم؛ لأنه تيمم وهو قادر على الوضوء محيط، ونظر فيه في البحر بما سنذكره مع جوابه. (رد المحتار، ج:1، ص: 395)


فتویٰ نمبر : 11000/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں