بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

بیوی اوراولاد کے مابین مال تقسیم کرنا


سوال

ہمارے والد صاحب سخی جان جو ابھی زندہ ہے ان کے نام موجب (انگریزی دور سے ملنے والا ماہانہ وظیفہ)آتا ہے جو کبھی ڈھائی لاکھ اور کبھی دو لاکھ ہوتا ہے۔ شرعی لحاظ سے اس کی تقسیم اپنے بچوں اور بیوی کے مابین کس حساب سے ہوگا؟

جواب

وا ضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے۔ اس میں وہ ہر جائز تصرف کرنے کا اختیار مند ہوتا ہے اور کسی کو اسے کسی تصرف سے منع کرنے کا کوئی حق نہیں، نیز والد صاحب کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد وغیرہ میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا، تاہم اسلام چونکہ زندگی کے تمام شعبوں میں عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے لہذا اگر کوئی آدمی اپنی زندگی میں اولاد میں کچھ تقسیم کرنا چاہے تو اسے چاہئے کہ بلا کسی جائز وجہ ترجیح کے ان میں بعض کو بعض پرترجیح نہ دے۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد صاحب کے نام رقم آتی  ہے شرعی لحاظ سے یہ چونکہ آپ کے والد صاحب کی ملکیت ہے، اس لیے  والد صاحب اسے جس طرح خرچ کرنا چاہے اسے حق حاصل ہے، اگر وہ اپنی زندگی میں یہ رقم خوشی سے اپنی بیوی اور اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، البتہ شرعی لحاظ سے یہ ہبہ ہوگا۔ اس میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لےتاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، کچھ مناسب حصہ اپنی بیوی کے لیے رکھ لے، جب کہ بقیہ مال  اپنی اولاد میں برابر تقسیم کردے یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا، البتہ کسی بیٹے یا  بیٹی کو  کسی معقول شرعی وجہ کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے۔ نیز اگر بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دگنا دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

عن النعمان بن بشير، أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: ‌أكل ‌ولدك ‌نحلت ‌مثله، قال: لا، قال : فارجعه.(صحيح البخاري،ج:3،ص:157، رقم:2582)

للمالك ‌أن ‌يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في بيان حكم الملك والحق الثابت له في المحل، ج:6، ص:264)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد ‌تفضيل ‌البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية. (الفتاوي الهندية، الباب السادس في الهبة للصغير، ج:4، ص:391)

(قوله: وإن قصده) بسكون الصاد ورفع الدال، وعبارة المنح: وإن قصد به الإضرار وهكذا رأيته في الخانية (قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن ‌التنصيف ‌بين ‌الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الهبة، ج:8، ص:502)


فتویٰ نمبر : 6694/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں