بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بھوسہ اور جانوروں کے چارے میں عشر
سوال
ہم ایک فصل گندم کی لیتے ہیں، تو ہمارے ذمہ عشر صرف گندم کا ہے یا بھوسے کا بھی ہے؟اسی طرح جانوروں کے کھلانے کے لیے چارہ کاشت کرتے ہیں اس میں بھی عشر لازم ہوگا یا نہیں؟مارکیٹ میں چارے کی فصل جس ریٹ میں سیل ہو اس کا اندازہ کر کے عشر نکالیں؟
جواب
واضح رہے کہ عشر اور نصف عشر اس فصل میں واجب ہوتا ہے، جو زمین سے مقصوداً حاصل کی جاتی ہو، یعنی کسی مقصد کے لیے کاشت کی جاتی ہو، چنانچہ جو چیز تبعاً حاصل ہو جائے، اس میں عشر واجب نہ ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق گندم کا بھوسہ چونکہ مقصود نہیں ہوتا، بلکہ تبعاً حاصل ہوتا ہے، اس لیے اس میں عشر واجب نہ ہوگا، البتہ جانوروں کے کھلانے کے لیے جو چارہ کاشت کیا جاتا ہے، وہ مقصودی ہوتا ہے، اس لیے زمین کے اعتبار سے اس میں عشر اور نصف عشر لازم ہوگا، نیز اصل یہ ہے کہ پیداوار ہی کا 10 فیصد یا 5 فیصد کسی غریب کو دیا جائے، لیکن اگر اس كی قیمت دینا چاہےتو وہ بھی دی جا سکتی ہے۔
والنوع الثاني شرط المحلية، وهو أن تكون عشرية فلا عشر في الخارج من أرض الخراج، ووجود الخارج، وأن يكون الخارج منها مما يقصد بزراعته نماء الأرض هكذا في البحر الرائق.فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف. (الفتاوى الهندية، کتاب الزکوۃ، ج:1، ص:247)
(و) تجب في (مسقي سماء) (وسيح) (بلا شرط نصاب) (و) (بقاء) (إلا فيما لا يقصد) به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن (قوله: وتبن) بالباء الموحدة قال في الفتح غير أنه لو فصله قبل انعقاد الحب وجب العشر فيه؛ لأنه صار هو المقصود. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:266)
(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:211)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں