بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کی جانےوالی زمین میں عشر


سوال

ہمارے پاس اجارے کی زمین ہے جس کو ہم ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب کرتے ہیں لیکن مالک ٹیوب ویل کے پانی کے پیسے نہیں لیتا صرف پانی لگانے والے کی محنت کی اجرت لیتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ عشر 10 فیصد کے حساب سے دیں گے یا 5 فیصد سے؟

جواب

واضح رہے کہ پیداوار میں  عشر اور  نصف عشر کے وجوب کا تعلق اس کے سیراب کرنے والے پانی کے ساتھ ہے، اگر زمین بارانی اور نہری پانی سے سیراب کی جاتی ہو، تو اس میں عشر واجب ہوتاہے، اور اگر کنویں، ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی جاتی ہو،تو اس میں نصف عشر واجب ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ زمین ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کی جاتی ہے، اور پانی لگانے والے  کی اجرت ادا کرنی پڑتی ہے،تو اس کی پیداوار میں  نصف عشر یعنی 5 فیصد لازم ہوگا۔

 

(يجب) العشر...(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:265)


فتویٰ نمبر : 10998/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں