بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقروض کاباقی ماندہ قرض پر مضاربت کرنا


سوال

زید نے عمر کو بیس لاکھ (20,00,000) روپے بطور قرض دیے۔ بعد ازاں عمر نے اس قرض میں سے دس لاکھ روپے واپس کر دیے، جبکہ دس لاکھ روپے بدستور زید کے ذمہ باقی رہے۔ اسی دوران عمر نے زید کو تجویز پیش کی کہ پشاور میں زمین کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری ہے، لہٰذا باقی ماندہ دس لاکھ روپے (جو کہ قرض ہیں) کو مضاربت کے طور پر استعمال کیا جائے، اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع باہمی طور پر نصف (50/50) تقسیم کیا جائے۔ چنانچہ زید نے قبول کرکے اسی بنیاد پر زمین کی خرید و فروخت شروع کی اور اس سے منافع حاصل ہوتا رہا، جو باہمی طور پر تقسیم بھی ہوتا رہا۔ مزید یہ کہ زید نے اپنے حصے راس المال مع منافع اور سرمایہ کے مطابق زکوٰۃ بھی ادا کی،عمر نے بھی اپنے حاصل شدہ منافع کے مطابق زکوٰۃ ادا کی کچھ عرصہ بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ مضاربت میں سرمایہ کا عین نقدو موجودہونا شرط ہے، جبکہ یہاں مضاربت دَین (قرض) پر قائم کی گئی تھی، جو کہ شرعاً محلِ اشکال ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں: کیا مذکورہ صورت میں یہ مضاربت شرعاً صحیح ہے یا فاسد ایک مفتی صاحب نے کہا کہ دیون کو مضاربت میں سرمایہ بنانا کسی مجتھد علیہ رح کے نزدیک جائز نہیں؟ البتہ اسطرح دیون کو شرکت و مضاربت کا سرمایہ بنانا میزان و دیگر اسلامی بینکوں میں ہوتا ہے اگر فاسد ہے تو اب تک حاصل ہونے والے منافع کا کیا حکم ہوگا؟ جو منافع پہلے ہی خرچ ہوچکا ہے یا اس سے سامان خریدا گیا ہے، اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس تمام منافع یا موجودہ اموال کو صدقہ کرنا لازم ہے، یا شرعی اصول کے مطابق باہمی تصفیہ کیا جائے؟ زکوٰۃ جو ادا کی جا چکی ہے، کیا وہ معتبر ہے یا اس کی دوبارہ ادائیگی ضروری ہوگی؟ قرآن و سنت کی روشنی میں، ائمہ اربعہ کے اقوال کے ساتھ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایا جائے۔

جواب

واضح رہے کہ مضاربت کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ سرمایہ یعنی راس المال نقد  کی صورت میں موجود ہو۔ کسی شخص کے ذمے واجب الادا قرض کو  مضاربت کا سرمایہ بنانا شرعاً جائز نہیں ۔تاہم  یہ مضاربت فاسدہ  ہوگی ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق خریدی گئی جائیداد اور اس پر حاصل ہونے والا تمام منافع شرعاً  مضارب  (عمر) کا ہے اوروہ صرف باقی  قرض  کی رقم  واپس کرنےکا ذمہ دار ہے اوراسی طرح  مضارب  (عمر) نے  جو زکوۃ ادا کی ، وہ معتبر شمار ہوگی۔اور  رب المال (زید) نے نفع کے نام سے  جو کچھ وصول کیا ہے وہ درحقیقت مضارب (عمر) ہی کی ملکیت تھا،  اس لیےرب المال( زید) پر لازم ہے کہ وہ اس  رقم کو  اپنے بقایا دس لاکھ روپے قرض میں سے منہا کر لے۔

 

ولو كان لرجل على رجل ألف درهم دين فأمره أن يعمل بها مضاربة ويشتري بها ما بدا له من المتاع ثم يبيعه بالنصف فهذا فاسد؛ لأن شرط صحة المضاربة كون رأس المال عينا ولم يوجد ذلك عند العقد ولا بعده... فإذا لم تصلح المضاربة فما اشتراه المديون فهو له لا شيء لرب المال منه في قول أبي حنيفة رحمه الله ودينه عليه بحاله. (المبسوط للسرخسي، كتاب المضاربة، ج:2،  ص:153)

ومنھا:أن یکون رأس المال عیناً لا دیناً ، فإن کان دیناً فالمضاربۃ فاسدۃ وعلی ھذا یخرج ما إذا کان لرب المال علی رجل دین، فقال لہ: اعمل بدینی الذي في ذمتک مضاربۃ بالنصف أن المضاربۃ فاسدۃ بلاخلاف ، فإن اشتری ھذا المضارب و باع ، لہ ربحہ وعلیہ وضیعتہ، والدین في ذمتہ بحال عند أبی حنیفۃ. (بدائع الصنائع، کتاب المضاربۃ، فصل فی شرائط الرکن، ج:8، ص:15)

وأما المضاربة بدين فإن كان على المضارب فلا يصح وما اشتراه له والدين في ذمته. (العناية شرح الهداية، كتاب المضاربة، ج:8،  ص:447)

وأما مال المضاربة فعلى رب المال زكاة رأس المال، وحصته من الربح، وعلى المضارب زكاة حصته من الربح إذا وصلت يده إليه إن كان نصابا أو كان له من المال ما يتم به النصاب عندنا. (المبسوط للسرخسی،کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج:2، ص:204)


فتویٰ نمبر : 4175/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں