بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کچھ الفاظ کےبارے میں بےادبی ہونے کا شبہ


سوال

میری بیوی نے کہا کہ آپ ٹانگیں کھول کرنمازپڑھتے ہومیں نےکہا: سارے مرد ٹانگیں تھوڑی کھول کرپڑھتے ہیں کیونکہ ان کے لنڈ اورٹٹے ہوتے ہیں جس وجہ سے ٹانگیں سمیٹ کرنماز پڑھنے میں مشکل ہوتے ہیں اس لیے تھوڑی سی ٹانگیں زیادہ کھول لیتے ہیں تاکہ مشکل نہ ہو میری نیت نمازکا مذاق اڑانا نہیں تھا وجہ یہ ہے کہ میرا ایک خصیہ تھوڑا بڑا ہے اس وجہ سے اس میں درد بھی ہو جاتاہے کیونکہ خصیہ مڑ جاتا ہے، میں خصیے کو بچانے کے لیے تھوڑی ٹانگ کھول لیتا ہوں، اب سوال یہ ہے کہ ایسی گفتگوسے میں کافرتو نہیں ہوا؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی مسلمان بےادبی کےالفاظ استعمال کرنے سےاس وقت تک کافرنہیں بنتا جب تک وہ شعوری طوراسلام کے کسی بنیادی رکن کا انکار نہ کرے یا جان بوجھ کراس کی توہین نہ کرلے۔  

صورت مسئولہ کے مطابق جب سائل کامقصدایسےالفاظ  سے حقیقت کو واضح کرناتھا نماز کی بے ادبی یا توہین مقصود نہ تھاتو اس سے کافرہونےکا کوئی خطرہ نہیں۔ خواہ مخواہ وسوسوں کی طرف توجہ نہ دے۔

 

وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفرهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم.(ردالمحتار مع الدر المختار، ج:4، ص:224)


فتویٰ نمبر : 11006/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں