بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

متعین مصرف کے لیے جمع شدہ چندے کو دوسرے مصرف میں خرچ کرنا


سوال

میں نے تبلیغی جماعت کے لئے برتن خریدنے کی خاطر لوگوں سے چندہ میں پیسے لئے ہیں لیکن جمع شدہ رقم اتنی نہیں کہ اس سے مطلوبہ برتن خریدے جا سکیں، کیونکہ پیسے کم  ہیں اور پیسوں کا کافی عرصہ میرے ساتھ ہوا اور ان مالکان کا بھی اب پتہ نہیں کہ ان سے دوسری جگہ خرچ کرنے کی اجازت لی جائے تو کیا ان پیسوں کو اب میں مسجد کی تعمیر میں دے سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ چندہ جمع کرنے والا شخص چندہ دہندگان کی طرف سے  کا وکیل اور امین ہوتا ہے اس لیے جس كام كے ليے چنده كيا جائے، تو وه رقم اس کام  میں خرچ کی جائے گی، دوسرے کاموں میں چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا جائز نہیں البتہ اگر چندہ دہندگان معلوم نہ ہوں اور ان سے اجازت لینا بھی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے گا۔

صورت مسئولہ میں جب سائل نے لوگوں سے تبلیغی جماعت کے لیے برتن خریدنے کی غرض سے پیسے جمع کیے تھے تو اس رقم  کواسی مقصد میں صرف  کرے اگر سب برتن اس سے نہیں خریدے جاسکے تو جتنےخریدے جاسکتے ہیں اتنے ہی خرید لے دوسرے مصرف میں نہ لگائے۔

 

وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، ج:2، ص:269)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (مجلة الأحكام العدلية، المادة:96، ص:27)

الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل، فيلي من التصرف قدر ما ولاه.(بدائع الصنائع، كتاب الوكالة، ج:6، ص:27)

قال: فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها، إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان، وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض، وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها، وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.(الهداية، كتاب اللقطة، ج:2، ص:418)


فتویٰ نمبر : 6698/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں