بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دورانِ نماز آگے صف کو پُر کرنے کے لئے جانا


سوال

نماز کے دوران اگلی صف میں جگہ خالی ہوجائے پھرچاہے جگہ سامنے خالی ہو ،یادائیں اوربائیں توپچھلی صف کا  نمازی اگلی صف میں کس طرح جائے؟ کیا آگے جانےکے  دوران پاؤں کو زمین کے ساتھ متصل رکھ کر جائے ، یا عام مروج طریقے سے  جائے،یااپنی جگہ کھڑارہناچاہئے؟عربی متون سے باحوالہ جواب دیکر ممنون فرمائیں۔

جواب

احادیث میں صفوں میں مل مل کر کھڑے ہونے کا حکم فرمایا گیا ہے،  اس لئے بعد میں آنے والوں پر لازم ہے کہ اگلی صفوں میں خالی جگہ اگر ہو تو اسے پُر کریں اور اگرسامنے  والی صف میں جگہ خالی ہو جائے مثلاً کوئی نمازی وضو ٹوٹنے کی وجہ سے صف سے نکل جائے تو اس کو پُر کرنے کے لئے اس سے پچھلی  صف کے نمازی کو نماز میں آگے بڑھنا چاہیئے،  البتہ اس کا طریقہ کا ر یہ ہے کہ وقفہ  وقفہ سے آگے بڑھ کر چلے یعنی تھوڑا  چل  کر رک جائے پھر  تھوڑا  چل  کر رک جائے تاکہ  مسلسل قدم اُٹھانے سے عمل کثیر لازم نہ آئے ۔ اسی طرح اگر  كسی کے  دائیں بائیں صف میں  کوئی جگہ خالی ہو جائے تو اگر دو صفوں کے درمیان فاصلہ سے کم  فاصلہ ہو تو پھر جا سکتا ہے بشرط یہ کہ رخ  قبلہ کی طرف رہے اور اگر دو صفوں کے درمیان فاصلہ سے زیادہ  فاصلہ ہو  تو پھر اس کے لئےجانا  جائز نہیں کیونکہ اس سے  عمل کثیر لازم ہوتا ہے  ۔ نیز   یہ بھی واضح رہے کہ آگے بڑھنے  کے دوران   پاؤں کو زمین کے ساتھ متصل ر کھ کر جانا ضروری نہیں۔

 

قال قتيبة، عن أبي الزاهرية، عن أبي شجرة، لم يذكر ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أقيموا الصفوف، وحاذوا بين المناكب، وسدوا الخلل، ولينوا بأيدي إخوانكم - لم يقل عيسى: بأيدي إخوانكم - ولا تذروا فرجات للشيطان، ومن وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله.(سنن أبي داود، 1/ 251)

قال بعض المشايخ: إن مشى خطوة خطوة لا تفسد صلاته وإن مشى خطوتين خطوتين تفسد، وعند بعضهم لا تفسد كيفما كان؛ لأن المسجد في حكم مكان واحد لكن لا أقل من الكراهة۔( بدائع الصنائع ، 1/ 218)

المشي في الصلاة إذا كان مستقبل القبلة لا يفسد إذا لم يكن متلاحقا ولم يخرج من المسجد وفي الفضاء ما لم يخرج من الصفوف. كذا في المنية وإذا استدبر القبلة فسدت. كذا في الظهيرية ولو مشى في صلاته مقدار صف واحد لم تفسد صلاته ولو كان مقدار صفين إن مشى دفعة واحدة فسدت صلاته وإن مشى إلى صف ووقف ثم إلى صف لا تفسد. كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية، 1/ 103)

 ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة.وقال ابن عابدین تحته: (قوله كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله صلى الله عليه وسلم " ومن قطعه قطعه الله "۔ بقي ما إذا رأى الفرجة بعد ما أحرم هل يمشي إليها؟ لم أره صريحا. وظاهر الإطلاق نعم، ويفيده مسألة من جذب غيره من الصف كما قدمناه فإنه ينبغي له أن يجيبه لتنتفي الكراهة عن الجاذب، فمشيه لنفي الكراهة عن نفسه أولى فتأمل. ثم رأيت في مفسدات الصلاة من الحلية عن الذخيرة إن كان في صف الثاني فرأى فرجة في الأول فمشى إليها لم تفسد صلاته لأنه مأمور بالمراصة. قال عليه الصلاة والسلام «تراصوا في الصفوف» ولو كان في الصف الثالث تفسد اهـ أي لأنه عمل كثير. وظاهر التعليل بالأمر أنه يطلب منه المشي إليها تأمل.( رد المحتار على الدر المختار،1/ 570)

وبعض المشايخ أولوا الحديث. ثم اختلفوا في تأويله، فقيل تأويله إذا لم يجاوز الصفوف أو موضع سجوده وإلا فسدت، وقيل إذا لم يكن متلاحقا بل خطوة ثم خطوة، فلو متلاحقا تفسد إن لم يستدبر القبلة لأنه عمل كثير، وقيل تأويله إذا مشى مقدار ما بين الصفين، كما قالوا فيمن رأى فرجة في الصف الأول فمشى إليها فسدها، فإن كان هو في الصف الثاني لم تفسد صلاته، وإن كان في الصف الثالث فسدت اهـ ملخصا۔ ( رد المحتار على الدر المختار، 1/ 628)


فتویٰ نمبر : 11003/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں