بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عقد اجاره میں رہن رکھنے کی شرط


سوال

میں نے اپنی زرعی زمین کسی کو مقررہ مدت تک اجارہ پر دی۔ معاہدے کے وقت میں نے یہ شرط رکھی کہ وہ دو لاکھ روپے میرےپاس بطور ضمانت جمع کرائے گا۔ کیا یہ شرط اور معاملہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ رقم بطور رہن رکھنے کی شرط کے ساتھ زمین اجارہ پر دینا جائز ہے لیکن ایسی صورت میں مالک زمین اس رقم کو اپنے پاس محفوظ رکھ کر اسے کسی قسم کے استعمال میں نہیں لائے گا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کسی کو زمین اجارے پر دیتا ہے اور اس سے دو لاکھ روپے رہن کے طور پر وصول کرتا ہے تو ایسا معاملہ کرنا شرعا جائز ہے تاہم اس میں یہ ضروری ہے کہ وہ اس رقم کو اپنے پاس محفوظ رکھے اور اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کرے۔

 

عن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم.(ردالمحتار على الدرالمختار ،كتاب الرهن،ج:10،ص:83)

ولو استأجر داراً أو  شيئًا وأعطى بالأجر رهنا جاز۔(الفتاوى الهندية،كتاب الرهن، الفصل الثالث،ج:5،ص:58)


فتویٰ نمبر : 4094/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں