بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح نامہ میں تفویضِ طلاق اورشوہرکےحقِ طلاق پرپابندی کےمتعلق کالمز


سوال

نکاح نامہ کےکالم نمبر18میں بیوی کوجوطلاق کا حق تفویض کردینے کی بات کی گئی ہےاورکالم نمبر19میں شوہرکےطلاق کےحق پرجو پابندی لگانےکی بات کی گئی ہے، توکیا یہ دونوں باتیں شرعاً درست ہیں یا نہیں؟ نیزکالم نمبر 18میں نکاح رجسٹرارصاحب "بمطابق احکام ِ شریعت" لکھےاوردولہا ایجاب وقبول کے بعداس نکاح نامے پردستخط کرے،تو کیا اس سے بیوی کو طلاقِ تفویض کاحق حاصل ہوگایا نہیں؟کیا یہ حق دائمی طورپرحاصل ہوگا یا مجلسِ نکاح تک محدود ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت نے طلاق کا اختیار شوہرکےسپرد کیا ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے دے تو شرعاً یہ جائز ہے، جس کی مختلف صورتیں ہیں۔چنانچہ تفویضِ طلاق کے وقت اگر شوہر نے کسی وقت کا تذکرہ  نہ کیا ہو ، مثلاً: یوں کہا ہو کہ "تجھے طلاق کا اختیار ہے" تو اس صورت میں بیوی صرف اسی مجلس میں طلاق واقع کرنے کی مجاز ہوگی، جس مجلس میں اسے تفویضِ طلاق کا پتہ چلے، اور اگر شوہر نے تفویض ِ طلاق کے وقت کسی وقت معین کا تذکرہ کیا ہو،مثلاً: "تجھے ایک ماہ تک طلاق کا اختیار ہے"تو ایسی صورت میں بیوی صرف اس وقت معین کےاندر طلاق واقع کرنے کی مجاز ہوگی،البتہ اگر شوہر نے اسے دائمی اختیار دیا ہو ، جیسا کہ عموماً آج کل نکاح ناموں میں تفویضِ طلاق ہوتی ہےتو اس صورت میں بیوی کو دائمی طور پر طلاق کا اختیار حاصل ہوگا، مثلاً:" تو جب چاہے خود کو طلاق دے سکتی ہو"۔اسی طرح اگر شوہر تفویض ِطلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے، مثلاً: "اگر میں نے فلاں کام کیا تو تجھے طلاق کا اختیار ہے"تو یہ بھی شرعاً جائز ہے،البتہ اس صورت میں  اگر شوہر نے وقت کاکوئی تذکرہ نہ کیا ہو تو عورت صرف اسی مجلس میں طلاق واقع کرنےکرنےکی مجازہوگی، جس میں اسےشرط پائےجانےکاعلم ہوجائے،اور اگر تفویضِ طلاق مشروط ہواوراس میں وقت کا بھی تذکرہ ہو ، جیسے:"اگر میں نے ایسا کیا تو تجھے ایک ماہ تک طلاق کا  اختیار ہوگا" تو ایسی صورت میں شرائط کی خلاف ورزی پر عورت کو اس وقت معین کے اندر طلاق واقع کرنے کا اختیار ہوگا،البتہ اس وقت معین کےگزرنےکےبعد وہ طلاق واقع کرنےکی مجازنہ ہوگی۔نیزتفویضِ طلاق کے وقت اگرشوہرنےطلاقوں کی تعدادکی بھی تصریح کی ہوتو تفویض اسی تعداد تک محدود رہے گی، جیسے:"تجھے ایک طلاق کا اختیار ہے"، البتہ تعدادِ طلاق کی تصریح نہ ہونے کی صورت میں شوہرکی نیت کااعتبارہوگا۔اورلفظِ طلاق صراحتاً ذکر ہونےکی وجہ سےواقع ہونےوالی طلاق، طلاق رجعی ہوگی۔چنانچہ اگراس نےایک یا دو کی نیت کی ہو،یا بلکل نیت نہ کی ہوتوان تینوں صورتوں میں بیوی کوصرف ایک طلاقِ رجعی واقع کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم اگراس نےتین طلاقوں کی نیت کی ہوتوبیوی تین طلاقوں کے واقع کرنےکی مجازہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق نکاح نامہ میں کالم 18 تفویض طلاق کے متعلق ہے، شرعاًاس کی گنجائش ہے،اور کالم19میں شوہرپرپابندی سےمراد اگراس کےحقِ طلاق کوختم یا محدودکرناہوتو کسی کویہ حق حاصل نہیں۔ نیزاگرنکاح رجسٹرارصاحب نےکالم نمبر18میں "بمطابق ِاحکام ِ شریعت " لکھاہوتو یہ ایک ذومعنی اور مجمل جملہ ہے اس لیے اگر دولہےنےایجاب وقبول کےبعد نکاح نامے پر دستخط کئے ہوں تواس سے بیوی کو تفویض ِطلاق کاحق حاصل نہیں ہوگا۔اوراگرشوہرتفویضِ طلاق کرے تو تمہید میں مذکور تفصیل کے مطابق وہ کبھی مجلس تک خاص ہوگا اورکبھی دائمی۔

 

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال:  الطلاق بالرجال والعدۃ بالنساء۔ (السنن الکبری للبیھقی، ج:7، ص: 607، رقم الحدیث: 15178)

جعل الأمر باليد لا يخلو إما أن يكون منجزا، وإما أن يكون معلقا بشرط، وإما أن يكون مضافا إلى وقتوالمنجز لا يخلو إما أن يكون مطلقا وإما أن يكون مؤقتا، فإن كان مطلقا بأن قال: أمرك بيدك فشرط بقاء حكمه بقاء المجلس وهو مجلس علمها بالتفويض... فأما إذا كان موقتا فإن أطلق الوقت بأن قال: أمرك بيدك إذا شئت....فلها الخيار في المجلس وغير المجلس. وأما التفويض المعلق بشرط فلا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون مطلقا عنالوقت، وإما أن يكون مؤقتا، فإن كان مطلقا بأن قال: إذا قدم فلان فأمرك بيدك فقدم فلان فالأمر بيدها إذا علمتفي مجلسها الذي يقدم فيه فلان... وإن موقتا بأن قال: إذا قدم فلان فأمرك بيدك يوما أو قال: اليوم الذي يقدم فيهفلان، فإذا قدم فلها الخيار في ذلك الوقت كله إذا علمت بالقدوم.  )بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل فی قولہ: أمرک بیدک، ج:4، ص:253-249)

قال لها طلقي نفسك ولم ينو أو نوى واحدة أو ثنتين في الحرة فطلقت وقعت رجعية، وإن طلقت ثلاثا ونواه وقعن). (الدرالمختار علی صدر رد المحتار، کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق، فصل فی المشیۃ، ج: 4، ص:575)

وإن ابتدأت المرأة فقالت: زوجت نفسي منك على أني طالق أو على أن يكون الأمر بيدي أطلق نفسي کلما شئتفقال الزوج: قبلت جاز النكاح ويقع الطلاق ويكون الأمر بيدها لأن البداءة إذا كانت من الزوج كان الطلاق والتفويض قبل النكاح فلا يصح . أما إذا كانت من المرأة يصير التفويض بعد النكاح... صار كأنه قال: قبلت علىأنك طالق أو على أن يكون الأمر بيدك فيصير مفوضا بعد النكاح.  (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب  الطلاق، مطلب: فی الحشیشٰۃ،والافیون، والبنج، ج:4، ص: 450)

الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة .... وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلاوإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو .. رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ، ج:1، ص:445،446)


فتویٰ نمبر : 7445/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں