بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھر کے پالے ہوئے جانور میں قربانی کی نیت کرنا


سوال

ایک عورت نے بکرا پالا تھا اوراس میں قربانی کی نیت کی تھی لیکن اس عورت نے قربانی آنے سے پہلےاس کوفروخت کیا۔ اب سوال یہ کہ کیا اس نیت کی وجہ سے اس عورت پر اس بکرے کی قربانی واجب ہو چکی تھی یا نہیں حالانکہ یہ عورت غیر صاحب نصاب تھی؟ اگر واجب ہوچکی تھی تو اب اس کی کیا صورت بنے گی حالانکہ قربانی کے ایام بھی گزر چکے ہیں اورعورت نے بکرا بھی فروخت کیاہے۔

جواب

واضح رہےکہ پہلے سے ملکیت میں موجود جانور میں قربانی کی نیت کرنے سے اس کی قربانی واجب نہیں ہوتی ،اس لیے اگر کوئی فقیر یا مالدار گھر کے پالے ہوئے جانور میں قربانی کی نیت کرے تو  اس کو فروخت بھی کر سکتا ہے ۔

   صورت مسؤلہ میں گھر کے پالے ہوئے بکرے میں قربانی کی نیت کرنے سے قربانی واجب نہیں ہو چکی تھی لہذا اس کو فروخت کرنا جائز تھا۔اگر وہ صاحب نصاب نہیں تو اب اس پر کچھ لازم نہیں۔

 

ولو كان في ملك إنسان شاة ‌فنوى ‌أن ‌يضحي ‌بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر. ( بدائع الصنائع، كتاب التضحية، صفة التضحية، ج:5، ص:62)

وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشتري للأضحية إذا كان المشتري فقيرا بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها. ( بدائع الصنائع، كتاب التضحية، صفة التضحية، ج:5، ص:62)


فتویٰ نمبر : 10999/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں