بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت پر دو مرتبہ نماز جنازہ ادا کرنا


سوال

گاؤں سے آئے ہوئے شہر میں رہائش پذیر لوگوں کے گھر وں میں عام طور پر جب کوئی شخص مر جائے تو میت کا ایک جنازہ ورثاء کی اجازت سے شہر میں ادا کیا جاتا ہے جس میں وارث شرکت نہیں کرتا اورپھر گاؤں میں دوبارہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور اس میں ورثاء بھی شرکت کرتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میت پراس طرح دو مرتبہ نما زجنازہ پڑھنا جس میں ورثاء کی رضامندی بھی شامل ہو شریعت کی رو سے جائزہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میت پر ایک مرتبہ جنازہ پڑھنا مشروع ہے، اگر امام وقت، سلطان، والی، قاضی یا امام الحی ایک مرتبہ کسی میت پر جنازہ پڑھے تو ولی کے لیے اس پر دوبارہ جنازہ ادا کرنا ٹھیک نہیں، نیزاگر جنازہ میں ایک ولی شرکت کرے  یا خود شرکت نہ کرے لیکن جنازہ ادا کرنے کا حکم دے تو ایسی صورت میں بھی اس میت پر دوبارہ جنازہ ادا کرنا جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جب شہر میں کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اولیاء کے حکم سے اس کا جنازہ ایک مرتبہ ادا ہو جائے تو ایسی صورت میں اس میت پر گاؤں میں دوبارہ جنازہ ادا کرنا  جائز نہیں۔

 

ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحدانا عندنا، إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلوة، ج:1، ص:311)

أما إذا أذن له أو لم يأذن ولكن صلى خلفه فليس له أن يعيد لأنه سقط حقه بالأذن أو بالصلاة مرة وهي لا تتكرر ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء آخرون بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا لأن ولاية الذي صلى متكاملة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، کتاب الصلاۃ، ص:591)

 

فإن كان حين افتتح الرجل الغريب صلاة الجنازة اقتدى به بعض الأولياء فليس لمن بقي منهم حق الإعادة؛ لأن الذي اقتدى به رضي بإمامته فكأنه قدمه ولكل واحد من الأولياء حق الصلاة على الجنازة كأنه ليس معه غيره؛ لأن ولايته متكاملة فإذا سقط بأداء أحدهم لم يكن للباقين حق الإعادة.( المبسوط للسرخسي، كتاب الصلوة، ج:2، ص:126)

ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح، ولا يعيد الولي إن صلى الإمام الأعظم أو السلطان أو الوالي أو القاضي أو إمام الحي؛ لأن هؤلاءأولى منه وإن كان غير هؤلاء له أن يعيد، كذا في الخلاصة.وإن صلى عليه الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده ولو أراد السلطان أن يصلي عليه فله ذلك؛ لأنه مقدم عليه…….ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، ج:1، ص:163)


فتویٰ نمبر : 10996/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں