بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں نفع کی تعیین


سوال

ہمارے پاس نقد پیسے تھے۔ ہم نے وہ کسی آدمی کو دو سال کے لیے دیے تاکہ وہ اس پر کاروبار کرے اور ہمیں ہر مہینے متعین پانچ ہزار روپے دے گا اور دو سال بعد ہمیں وہ پیسے  واپس کرے جوہم نے ان کو دیے تھے۔ تو کیا یہ طریقہ کار شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار"عقدِ مضاربت" کہلاتا ہے۔ مضاربت میں نفع  مضارب اور رب المال (مالکِ سرمایہ) کے مابین کسی خاص  طے شدہ تناسب سےتقسیم  ہوتا ہے اورحقیقی  نقصان کا ذمہ دار صرف رب المال (مالکِ سرمایہ) ہوا کرتا ہے۔ مضاربت  کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ منافع میں رب المال اور مضارب کا حصہ اجزاء یعنی نصف، ربع یا ثلث کے اعتبار سے معلوم ہو۔ متعین مقدار مقرر کرنا درست نہیں۔ بالفرض کسی ایک کے لیے منافع میں خاص معین مقدار مقرر کی جائے، مثلاً یہ کہ رب المال کہے کہ مجھے ماہانہ پانچ ہزار روپے دو گے، تو اس شرط سے عقدِ مضاربت فاسد ہو جاتا ہے۔

بیان کردہ تفصیل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سوال میں مذکور یہ معاملہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں سرمایہ کے مالک کو ہر ماہ متعین طور پر پانچ ہزار نفع دینے کا معاملہ طے ہوا ہے۔ اور دو سال بعد پورا سرمایہ واپس کرنے کی شرط لگائی گئی ہے۔ یہ ایک سودی معاملہ ہے، اس لیے اس کو فوراً ختم کر کے توبہ کی جائے۔

 

ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر. (الهداية، كتاب المضاربة، ج:3، ص:200)


فتویٰ نمبر : 4090/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں