بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شادی سے پہلے، میری بیوی میری بہن ہوجائےکے الفاظ کہنا


سوال

ایک شخص کا اپنے خالو کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، جھگڑے کے دوران اس  نے اپنے خالو سے كسی كام كے بارے ميں کہا:اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو میری بیوی میری بہن ہو جائے۔" جبکہ اس کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی، کچھ عرصے بعد اس کے خالو کا انتقال ہوگیا۔ اس نے اس کے بعد اپنے خالو سے اس موضوع پر کبھی کوئی بات نہیں کی۔خالو کے انتقال کے تقریباً چار سال بعد خالو کی ایک بیٹی (جو اس کی خالہ زاد بہن ہے) کے لیے اس کے گھر رشتہ آیا، لیکن اس نے اور اس کے والدین نے انکار کردیا۔اس کے بعد خالو کی ایک اور بیٹی کے لیے اس کا رشتہ مانگا گیا۔ اس کے والد کو معلوم تھا کہ اس نے  اپنے خالو سے مذکورہ الفاظ کہے تھے، لیکن انہوں نے اس سے مشورہ کیے بغیر اور اسے اطلاع دیے بغیر، اس رشتے کی بات چلا دی۔جب اُس کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے والد سے کہا کہ میں پہلے ہی اپنے خالو سے یہ الفاظ کہہ چکا ہوں: "اگر آپ یہ کام کریں تو میری بیوی میری بہن ہو جائے۔"اس پر اس کے والد نے کہا:اگر تمہارے الفاظ کی وجہ سے وہ لڑکی تمہارے لیے حرام ہو گئی تھی تو تم نے اس رشتے کو ختم کیوں نہیں کیا؟ تم نے اس بارے میں مشورہ کیوں نہیں دیا؟"اس کا کہنا ہے کہ اس نے صرف مذکورہ الفاظ ہی کہے تھے، اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہوئی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ جب اس کا والد زندہ ہیں، عاقل، بالغ، صحت مند اور اپنے معاملات خود انجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس سے مشورہ کیے بغیر اور اس کی عدم موجودگی میں یہ رشتہ طے کیا، تو کیا اس معاملے میں اس شخص پر کوئی شرعی ذمہ داری یا گناہ عائد ہوتا ہےیا نہیں ؟براہ کرم اس مسئلے کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  طلاق  کے وقوع کے لیے ضروری ہے، کہ عورت آدمی کے نکاح میں ہو،يا اس نے طلاق کی نسبت نکاح کی طرف کی ہو،چنانچہ اگر کوئی آدمی غیر شادی شدہ ہو، اور وہ کسی کام کے ساتھ بیوی کے طلاق  کو معلق کرے، اور نکاح کی طرف اس کی نسبت نہ  کرے، تو شرط پائے جانے پر طلاق واقع نہ ہو گی۔نیز یہ کہ بیوی کو بغیر تشبیہ کے  ماں ،بہن  کہنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا،تاہم اگر کسی علاقے کےعرف میں یہ الفاظ نکاح کے لیے استعمال  ہوتے ہوں تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ شخص نے غیر شادی شدہ ہونے کی حالت میں یہ الفاظ اپنے خالو سے کہے تھےکہ " اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو میری بیوی میری بہن ہو جائے"۔تو چونکہ اس وقت نہ اس کی شادی ہوئی تھی، اور نہ اس نے اس بات کی نسبت نکاح کی طرف کی تھی، اس لیے رشتہ طے ہونے کے بعد نہ اس پر بیوی مطلقہ  ہوگی، اور نہ اس پر کوئی گناہ عائد ہوگا۔

 

ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:488)

قال لها أنت أمي، لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها. (الفتاوى الهندية، كتاب الظهار، ج:1، ص:564)


فتویٰ نمبر : 7444/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں