بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پائنچے اوپر رکھنے کا حکم


سوال

حضرت سوال عرض ہے کہ پینٹ جو ہم پہنتے ہیں آفس میں اس میں ہم پائنچے اوپر کرکے آفس میں رہ سکتے ہیں۔نماز کے علاوہ آفس کے لوگوں کا اختلاف یہ ہے کہ اوپر نہ کریں بلکہ آپ پینٹ ایسی سلوائیں کہ پائنچے اوپر ہی ہوں۔تو آپ اس کاجواب عنایت فرمائیں کہ کیا کرنا چاہیے ؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کے لیے شلوار یا پینٹ کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنا شرعاً ناجائز ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی پائنچےٹخنوں سے نیچے لٹک جائیں  تو  معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا جائز نہیں ہے، اورٹخنوں کو ڈھانکنا نماز اور غیر نماز ہر حال میں ممنوع ہے، البتہ نماز میں اس کی ممانعت مزید بڑھ جاتی ہے،  لہذا ایسا لباس ہی نہیں بنانا یا خریدناچاہیےجس میں ٹخنے چھپتے ہوں۔

 صورت مسؤلہ میں خواہ نماز کی حالت ہو یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں پائنچے ٹخنوں سے اوپر رکھنے چاہیےاوریہ بات درست ہے کہ لباس ایسا سلوانا یا خریدنا چاہیے کہ اس میں ٹخنے خود بخود کھلےرہتے ہوں تاکہ پائنچے اٹھانےیا فولڈکرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(ما أسفل من الكعبين ‌من ‌الإزار ففي النار).(صحیح البخاري،کتاب الصلاة،باب ما أسفل من الکعبین ففي النار،ج:5،ص: 2182، رقم الحدیث:5450)

ينبغي أن يكون الإزار ‌فوق ‌الكعبين.(الفتاوى الهندية،الباب التاسع في اللبس،مایکرہ من ذالک وما لایکرہ،ج:5،ص:333)


فتویٰ نمبر : 6531/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں