بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شادی شدہ عورت کا اپنے باپ کے گھر میں قصر نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی عورت کی شادی ہوجائےاور وہ شوہر کے گھر چلی جائے ، تو پھر جب وہ اپنے ماں باپ کے گھر جائے گی، تو کیا وہ وہاں قصر پڑھے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سفر کے دوران جب مختلف لوگ ہوں تو اس میں اعتبار متبوع کا ہوگا نہ کے تابع کا ،نیز اگر کوئی شخص ایک نیا وطنِ اصلی اختیار کر لے تو اس کے قائم ہونے سے پہلا وطنِ اصلی معتبر نہیں رہتا۔

جب بیوی میکے سے رخصت ہو جائے،اور شوہر کے گھر چلی جائے تو پہلا وطن اصلی باطل ہوکر شوہر کا گھر اس کا وطن اصلی بن جاتا ہے، چنانچہ پھر اگر میکےکا گھر اتنی مسافت پر ہوجہاں قصر لازم ہوتا ہے، تو جب بھی پندرہ روز سےکم مدت کےلئےمیکےجائےگی،توقصرکرنا اس پرلازم ہوگا۔

 

وطـن أصـلـي وهو مولد الرجل أو البلد الذي تأهل به... ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي۔ (الفتاوی الهندية، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:1، ص:142)


فتویٰ نمبر : 10836/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں