بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
عدت گزرنے کے بعد شوہر کی ہمبستری سے عدت پر اثر
سوال
ایک شخص کا دو لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے ،اتفاقا ایک لڑکی نے اس آدمی کے ہاتھ پر گھڑی دیکھی اور کہا کہ یہ گھڑ ی آپ کو دوسری لڑکی نے دی ہے ،آدمی نے کہا کہ نہیں یہ دوسری لڑکی نے نہیں دی ہے ،لیکن وہ لڑکی بار بار اصرار کر رہی تھی ،تو اس آدمی نے لڑکی سےجھوٹ بول کر کہا کہ اگر فلاں لڑکی نے مجھے یہ گھڑی دی ہو،تو مجھ پر اپنی بیوی تین طلاق ،اب اس آدمی نے تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی لیکن چونکہ بیوی موجود نہیں تھی اس وجہ سے اس آدمی کو شک ہوا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور اس خوش فہمی میں مسلسل اپنی طلاق شدہ بیوی سے ملتا رہا ،پھر شک پڑنے پر علماءکرام سے معلوم ہوا کہ طلاق واقع ہوچکی ہے ،لیکن اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی ،جب وضع حمل ہوا تو نفاس کے بعد بھی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرتا رہا جب نفاس کے بعد ایک حیض آیا ،تو شوہر نے اس بیوی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کروایا ،دوسرے شخص نے حلالہ کرکے طلاق دی اور عدت کے بعد شوہر اول نے دوبارہ نکاح کیا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ: 1۔ بیوی کے غیر موجودگی میں طلاق کا کیا حکم ہے ؟ واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟2۔ محلل کہتا ہے کہ چونکہ وضع حمل اور ایک حیض گزرنے کے بعد شوہر اول نے ہمبستری کی ہے اس وجہ سے عدت نہیں گزری ،حالانکہ ایک حیض آنے کے بعد شوہر اول نے اس دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرایا تھا ،تو کیا اب یہ بیوی اول شوہر کے لیے حلال ہے یا دوبارہ حلالہ کرنا ہوگا؟3۔ ایک حیض آنے کے بعد دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کرایا گیا ،تو کیا یہ حلالہ ہوگیا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جب شوہر بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ بول دے ،تو اس کے ساتھ بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے اگر چہ بیوی اس موقع پر حاضر نہ ہو ،بیوی کا سامنے ہونا طلاق کے لیے شرط نہیں ہے ،تین طلاق دینے کے بعد عورت مغلظہ بن جاتی ہے اور اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ اس صورت پر دوبارہ زندگی استوار کرسکتی ہے ،کہ و ہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور کے ساتھ شادی کرلے ،اوروہ اس سے ہمبستری بھی کرے پھر وہ شخص مرجائے یا اس کو طلاق دیدے،تو عدت گزرنے کے بعد یہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے ، نیز طلاق اگر حمل کے دوران دی جائے تو عورت کی عدت وضع حمل ہوگی ،جب عورت بچہ جنے تو عدت ختم ہوجائے گی ،چاہے جتنے بھی دن گزرے ہوں، وضع حمل کے بعد اگر یہ عورت کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس شخص کو اس دوسری لڑکی نےگھڑی دی تھی اور اس نے جھوٹ بول کر یہ کہا کہ: اگر فلاں لڑکی نے مجھے یہ گھڑی دی ہو،تو مجھ پر اپنی بیوی تین طلاق" تو اس کے ساتھ اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں،چاہے بیوی اس وقت موجود نہ بھی تھی ،نیز طلاق کے دوران عورت چونکہ حاملہ تھی اس وجہ سےعدت وضع حمل تھی اور وضع حمل کے ساتھ اس کی عدت پوری ہوگئی ،اس کے بعداگرحسب بیان شوہر کو معلوم تھا کہ اب یہ میری بیوی نہیں رہی اور پھر بھی وہ اس کے ساتھ ملتا اور ہمبستری کرتا رہا ،تو اس کا یہ عمل زنا شمار ہوکر حرام اور ناجائز تھا اس پر توبہ اور استغفار کرنا چاہیے ،لیکن اس کی وجہ سے عورت کی عدت پر کوئی اثر نہیں پڑا ،کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کے ساتھ ختم ہوچکی تھی اور زنا کی وجہ سے عدت لازم نہیں ہوتی ، اس لیے وہ عورت دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد تھی ،پس جب وضع حمل کے بعد دوسرے آدمی سے نکاح کیا اور ہمبستری بھی کی ،تو وہ درست تھا ،اور پھر اس کے طلاق دینے اور عدت گزرنے کے بعد سابقہ شوہر کا دوبارہ نکاح بھی جائز اور درست ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (البقرة: 230)
و قال: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق: 4)
ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:3،ص:250)
(إذا أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق...(وقع)قال العلامة ابن عابدینؒ(قوله كأنت طالق) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الإشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك. (ردالمحتار،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب فی قولہ:علي الطلاق من ذراعی،جلد 4،ص،471،469)
لأن الزوج ينفرد بإيقاع الطلاق الثلاث، ولا يتوقف ذلك على علم المرأة.)المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب العتاق،الفصل السابع في الخصومات أربعة۔۔۔ج:4،ص:237)
(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل.(دررالحكام شرح غرر الأحكام،كتاب الطلاق،ج:1،ص:359)
لا تجب العدة على الزانية وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى كذا في شرح الطحاوي.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،باب العدة،ج:1،ص:526)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں